کتاب: بدعت کا انسائکلوپیڈیا(قاموس البدع) - صفحہ 435
’’صرف جاہل شخص ہی (دعا کے بعد) اپنے ہاتھ چہرے پر پھیرتا ہے۔‘‘
اور ہمارے شیخ نے ’’المشکاۃ‘‘ (۲/۶۹۶)[1] میں حدیث رقم (۲۲۵۵)[2] کے تحت بیان کیا:
دعا کے بعد چہرے پر ہاتھ پھیرنے کے بارے میں کوئی حدیث صحیح ثابت نہیں، جیسا کہ میں نے اسے ’’ارواء الغلیل‘‘ رقم (۴۳۳ اور ۴۳۴) میں ثابت کیا ہے۔[3]
۱۵… قنوت فجر
شیخ رحمہ اللہ نے ’’إرواء الغلیل‘‘ (۲/۱۸۲) حدیث رقم (۴۳۵) میں مالک اشجعی رضی اللہ عنہ کی روایت سے استدلال کرتے ہوئے جو کہ صحیح ہے قنوت فجر کی بدعت کے متعلق فرمایا:
’’انہوں نے کہا: میں نے اپنے والد سے کہا:
اباجان! آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے اور ابوبکر و عمر و عثمان و علی کے پیچھے اور یہاں کوفہ میں بھی تقریباً پانچ سال نمازیں پڑھی ہیں، کیا وہ فجر میں قنوت کیا کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: ’’بیٹا! وہ ایک نیا کام ہے۔‘‘[4]
چہارم:… نماز کے بعد کی بدعات
۱… فجر کی نماز کے بعد سات بار جہنم سے پناہ طلب کرنے کی بدعت اور اسی طرح یک زبان ہوکر بلند آواز سے اللہ سے جنت کا سوال کرنا
ہمارے شیخ البانی رحمہ اللہ نے ’’الصحیحۃ‘‘ (۶/۳۳) میں فرمایا:
[1] ہدایۃ الرواۃ الی تخریج احادیث المصابیح والمشکاۃ ۲/ ۴۱۷.
[2] اس کی نص یہ ہے: ’’جب آپ دعا کرتے تو ہاتھ اٹھاتے اور اپنے ہاتھ چہرے پر پھیرتے تھے۔‘‘.
[3] حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ترمذی کی حدیث کو شواہد کی بنا پر صحیح قرار دیا ہے۔ جس سے دعا کے بعد چہرے پر ہاتھ پھیرنا ثابت ہوتا ہے۔ مصنف عبدالرزاق (۳/۱۲۳) کی مرسل حدیث کے کئی شواہد موجود ہیں۔ امام اسحاق جیسے عظیم محدث کا عمل بھی اسی حدیث پر تھا۔ (قیام اللیل للمروزی ص: ۲۳۲) مشہور تابعی امام حسن بصری رحمہ اللہ سے بھی یہ عمل ثابت ہے۔ (ایضاً ص: ۲۳۶) مزید برآں ابن عمر اور عبداللہ زبیر رضی اللہ عنہما کے عمل (جس کے روایت کرنے والے صحیح بخاری کے راوی ہیں) سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے (دیکھئے: الادب المفرد، حدیث: ۶۰۹) لہٰذا اس عمل کو بدعت کہنا درست نہیں۔ جو لوگ وتر کی دعائے قنوت کے بعد منہ پر ہاتھ پھیرتے ہیں ان کا عمل اس باب کی احادیث وآثار کے عموم پر ہے۔ لہٰذا اسے بدعت کہنا بھی محل نظر ہے۔ واللہ اعلم (شہباز حسن).
[4] اس کی تخریج ’’الإرواء‘‘ (۴۳۵) میں دیکھیں.