کتاب: بدعت کا انسائکلوپیڈیا(قاموس البدع) - صفحہ 429
روایت میں ہے، اور وہ شاذ ہے جیسا کہ اس کا بیان گزرا…وہ ایسا بیان ہے جسے تم کسی دوسری جگہ نہیں دیکھو گے، اس کی توفیق پر اللہ کا شکر ہے، اور میں اس کے فضل سے مزید کی درخواست کرتا ہوں۔
۱۲… اشارے کے بعد انگلی رکھنا، یا اسے نفی و اثبات کے وقت کے ساتھ مقید کرنا
اس کی سنت میں کوئی اصل نہیں، بلکہ وہ اس حدیث[1] کی دلالت کے لحاظ سے اس (سنت) کے مخالف ہے۔
’’صفۃ الصلوۃ‘‘ (ص۱۵۸)
ہمارے شیخ رحمہ اللہ نے ’’المشکاۃ‘‘ (۱/۲۸۵)[2]میں حدیث رقم (۹۰۶) پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا، اور اس کی نص یہ ہے: ابن عمر نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب تشہد میں بیٹھا کرتے تھے، آپ اپنا بایاں ہاتھ اپنے بائیں گھٹنے پر رکھتے اور دایاں ہاتھ دائیں گھٹنے پر رکھتے تھے، اور آپ ترپن [3] (۵۳) کی گرہ لگاتے اور انگشت شہادت سے اشارہ کرتے تھے۔
اس حدیث کو مسلم نے روایت کیا، حدیث سے ظاہر ہے کہ اشارہ اور رفع (انگلی اٹھانا) بیٹھنے کے بعد ہے، یہ جو کہا جاتا ہے کہ ’’لا الہ‘‘ کہنے پر انگلی اٹھائی جائے۔جبکہ دوسرے مذہب میں ہے: ’’الا اللہ‘‘ پر اٹھائی جائے، یہ ہر ایک رائے ہے سنت سے اس پر کوئی دلیل نہیں، اور ابن حجر فقیہ کا قول، جیسا کہ انہوں نے اسے ’’المرقاۃ‘‘ میں نقل کیا، جو یہ ہے: اور مسنون ہے… یہ کہ انگلی اٹھانے کو ’’الا اللہ‘‘ کے ساتھ مخصوص کیا جائے، جیسا کہ مسلم کی روایت میں ہے، وہ محض وہم ہے، کیونکہ اس کے لیے کوئی اصل نہیں، صحیح مسلم میں نہ اس کے علاوہ کتب السنۃ میں، صحیح اسنادسے نہ ضعیف سے، نہ ہی موضوع سے، اور اس کے مثل انگلی کو اٹھانے کے بعد رکھ دینے کے بارے میں کوئی اصل نہیں، بلکہ آنے والی حدیث (المشکاۃ (۹۰۷) وغیرہ کا ظاہر اس کو سلام پھیرنے تک حرکت کرنے
[1] وہ حدیث ہے: ’’ آپ اپنی نگلی اٹھاتے تھے، اسے حرکت دیتے تھے اور اس کے ساتھ دعا اشارہ کرتے تھے۔‘‘
شیخ رحمہ اللہ نے فرمایا: پس اس (حدیث سابق) میں دلیل ہے کہ سلام پھیرنے تک اشارہ اور اسے حرکت دیتے رہنا چاہیے! کیونکہ دعا اس سے ہے، وہ (امام) مالک ودیگر کا مذہب ہے، احمد سے سوال کیا گیا: کیا آدمی نمازمیں انگلی سے اشارہ کرے گا؟ انہوں نے فرمایا: ’’ہاں، سختی کے ساتھ۔‘‘ ابن ہانی نے اسے احمد سے مسائل احمد بن حنبل (ص۸۰) میں ذکر کیا۔
میں نے کہا: اس سے واضح ہوتا ہے کہ تشہد میں انگلی کو حرکت دینا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت شدہ سنت ہے، ائمہ السنۃ میں سے احمد ودیگر نے اس پر عمل کیا ہے، ان لوگوں کو اللہ سے ڈرنا چاہیے جو کہتے ہیں کہ وہ عبث ہے یہ نماز کے شایان شان نہیں،پس وہ اس وجہ سے اسے حرکت نہیں دیتے حالانکہ انہیں اس کے ثبوت کا علم ہے، اور وہ اس کی تاویل میں تکلف کرتے ہیں جس پر اسلوب عربی دلالت نہیں کرتا، اور ائمہ ان کی مخالفت کرتے ہیں۔’’صفۃ الصلوۃ‘‘ (ص۱۵۸۔۱۵۹).
[2] ہدایۃ الرواۃ الی تخریج احادیث المصابیح والمشکوٰۃ ۱/ ۴۰۸.
[3] وہ (ترپن کی گرہ) اس طرح کہ انگشت شہادت کے علاوہ تینوں انگلیاں بند کر لی جائیں، انگشت شہادت کو چھوڑدیا جائے اور انگوٹھے کو انگشت شہادت کی جڑ سے ملا دیا جائے۔ (منہ).