کتاب: بدعت کا انسائکلوپیڈیا(قاموس البدع) - صفحہ 423
۹… صلاۃ (درود) یا تشہد [1]کے شرعی الفاظ میں جعل سازی
ہمارے شیخ رحمہ اللہ نے ’’فوائد مہمۃ فی الصلوۃ علی نبی الأمۃ‘‘ کے عنوان کے تحت ’’صفۃ الصلوۃ‘‘ (ص۱۷۶) میں بیان کیا:
پانچواں فائدہ:…: جان لیجیے کہ ان تمام الفاظ میں سے درود کے ایک طرح کے الفاظ کو ہی دہراتے رہنا مشروع نہیں، اسی طرح تشہد کے الفاظ کے بارے میں کہا جائے گا، بلکہ یہ دین میں بدعت ہے، سنت یہ ہے کہ کبھی یہ کہے جائیں اور کبھی وہ جیسا کہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے اسے ’’التکبیر فی العیدین کی بحث میں بیان کیا ’’مجموع‘‘ (۶۹/۲۵۳/۱)
۱۰… تشہد اوّل میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود میں ’’اللھم صل علی محمد‘‘ سے زیادہ الفاظ پڑھنے کی کراہت کا بیان
سنت میں اس کی کوئی اصل ہے نہ اس پر کوئی دلیل ہے، بلکہ ہم سمجھتے ہیں کہ جس نے یہ کیا ہے اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کہو: اللّٰھم صل علی محمد و علی اٰل محمد … الخ پر عمل نہیں کیا۔
’’صفۃ الصلاۃ‘‘ (۱۶۵)
۱۱… تشہد کے علاوہ انگلی سے اشارہ
۱۔ دوسجدوں کے درمیان اشارہ۔ ۲۔ جلسہ استراحت میں انگلی سے اشارہ۔
۳۔ ہر جلسہ میں انگلی سے اشارہ۔
ہمارے شیخ البانی نے ’’الصحیحۃ‘‘ (۵/۳۰۸۔۳۱۳) میں حدیث رقم (۲۲۴۷) کے تحت یہ بیان کیا:
…میں اپنے بہت سے لیکچروں اور دروس میں اس وضع اور اس کے اسباب کے متعلق کہا کرتا تھا، ہو سکتا ہے کہ کوئی آدمی کوئی نئی بدعت لے آئے وہ اس مطلق روایت پر اعتماد کرتا ہو اور اسے پتہ نہ ہو کہ وہ مقید ہے، اس سے
[1] تشہد کے مختلف صیغے ’’صفۃ الصلاۃ‘‘ (ص۱۶۱۔۱۶۴) میں دیکھیں، اور اسی طرح درود کے مختلف صیغے ’’صفۃ الصلاۃ‘‘ (ص۱۶۴۔۱۶۷) میں دیکھیں
ابوعبیدہ نے بیان کیا: ابن القیم نے اپنی کتاب ’’جلاء الأفھام‘‘ دسویں فصل: دعاؤں اور اذکار کے قاعدے میں (ص۴۵۳ اور بعد کے صفحات۔ بتحقیقی) مفصل بیان کیا ہے، انہوں نے اذکار کے درمیان ایک ہی طرح کے الفاظ پڑھنے سے ممانعت کی تفصیل بیان کی ہے، اور انہوں نے ممانعت کے بارے میں چھ وجوہ بیان کی ہیں، جن میں ایک ہی طرح کے الفاظ کی پابندی کا مسئلہ نکلتا ہے جس کا شیخ نے یہاں حل نکالا ہے، یہ چیز قابل ذکر ہے کہ شیخ محمود یس (متوفی ۱۳۶۷ھ بمطابق ۱۹۴۸ء) نے اپنی کتاب ’’الرحلہ الی المدینۃ‘‘ (ص۳۵) میں اس مسئلے کی خطا پر آگاہ فرمایا ہے، اور انہوں نے کلام کے بعد فرمایا:‘‘ … اس سے بھی زیادہ عجیب یہ ہے کہ ابراہیمی صیغے صحیح بخاری اور صحیح مسلم و دیگر کتب میں متعدد روایات سے روایت کیے گئے ہیں، ان میں یہ الفاظ نہیں جسے لوگ عام طور پر درود میں تشہد کے آخر پر پڑھتے ہیں۔‘‘.