کتاب: بدعت کا انسائکلوپیڈیا(قاموس البدع) - صفحہ 406
صراحت کی کہ نماز میں زبان سے نیت کرنا سنت ہے،[1] انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھا ہے۔
ہمارے شیخ نے ’’صحیح موارد الظمآن‘‘ (۱/۲۶۲) میں السقاف پر رد کرتے ہوئے فرمایا:
تمہارے لیے کافی ہے کہ تم جان لو کہ اس نے صراحت کی ہے کہ زبان سے نیت کرنا نماز کی سنن میں سے ہے!!
۴… تکبیر کے لیے ہاتھ اٹھاتے وقت انگوٹھے کو کانوں کی لو سے لگانا
ہمارے شیخ رحمہ اللہ نے ’’المشکاۃ‘‘ (۱/۲۵۲) میں حدیث رقم (۸۰۲) کے تحت بیان کیا:
تنبیہ…: آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کانوں کی لو سے انگوٹھے لگانے کے متعلق وارد نہیں، پس انہیں چھونا (انگوٹھے لگانا) بدعت ہے یا وسوسہ ہے، سنت تو صرف یہ ہے کہ ہاتھوں کو کانوں یا کندھوں کے مقابل کیا جائے۔
اور ہمارے شیخ رحمہ اللہ نے ’’تلخیص صفۃ صلاۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم ‘ (ص۱۳) میں فرمایا:
رہا انگوٹھوں کا کانوں کی لو سے لگانا، تو سنت میں اس کی کوئی اصل نہیں، بلکہ میرے نزدیک وہ وسوسہ کے اسباب میں سے ہے۔
سوم:… نماز کی بدعات
ہمارے شیخ رحمہ اللہ نے ’’صفۃ الصلوۃ‘‘ (ص۸۸) میں فرمایا:
۱… نماز میں ہاتھ رکھنے کے بارے میں ’’وضع و قبض‘‘[2] (ہاتھ رکھنا اور دائیں ہاتھ سے بائیں کو پکڑنے) کے درمیان جمع و تطبیق، جسے احناف کے بعض متاخرین نے مستحسن قرار دیا:
[1] اس کے باوجود کہ دو اماموں رافعی اور نووی نے صراحت کی ہے کہ وہ کچھ بھی نہیں۔ ’’الصحیحۃ‘‘۔ (۶/۱۳۴)۔ میں نے کہا: سابقہ حاشیہ دیکھیں.
[2] یعنی نماز میں دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھنے کے بارے میں۔
ہمارے شیخ رحمہ اللہ نے ’’صفۃ الصلوۃ‘‘ (ص۸۸) میں ’’تنبیہ‘‘ کے عنوان کے تحت بیان کیا: انہیں سینے پر باندھنا سنت میں ثابت ہے، اور اس کے خلاف جو ہے وہ یا تو ضعیف ہے یا اس کی کوئی اصل نہیں۔
اس سنت پر امام اسحاق بن راہویہ نے عمل کیا، المروزی نے ’’المسائل‘‘ (ص۲۲۲) پر بیان کیا:
’’اسحاق ہمیں وتر پڑھاتے تھے… وہ قنوت میں ہاتھ اٹھاتے تھے۔ اور رکوع سے پہلے قنوت پڑھتے تھے۔ اور وہ اپنے ہاتھ چھاتی پر یا چھاتی کے نیچے رکھتے تھے۔‘‘ اسی طرح قاضی عیاض المالکی نے اپنی کتاب ’’الإعلام‘‘ (ص۱۵۔ الطبعۃ: ۳۔ الرباط) میں ’’مستحبات الصلاۃ‘‘ کے ذیل میں بیان کیا: ’’دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ کے باہر والے حصے پر سینے کے پاس رکھنا۔‘‘ اس سے ملتی جلتی بات عبداللہ بن احمد نے اپنے ’’مسائل‘‘ (ص۶۲) میں روایت کی ہے، انہوں نے کہا:
’’میں نے اپنے والد کو دیکھا جب انہوں نے نماز پڑھی تو انہوں نے اپنے دونوں ہاتھوں میں سے ایک ہاتھ دوسرے پر ناف کے اوپر رکھا۔‘‘دیکھیں: ’’إرواء الغلیل‘‘ رقم (۳۵۳).