کتاب: بدعت کا انسائکلوپیڈیا(قاموس البدع) - صفحہ 405
نماز کے وقت ان کا یہ کہنا: ’’میں نے نیت کی کہ میں نماز (فلاں) پڑھوں گا…‘‘ [1] ’’بالاتفاق بدعت ہے، انہوں نے صرف اس میں اختلاف کیا ہے کہ وہ حسنہ ہے یا سیۂ ، اورہم کہتے ہیں: کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان: ’’کُلُّ بِدْعَۃٍ ضَلَالَۃٌ وَ کُلُّ ضَلَالَۃٍ فِی النَّارِ‘‘ کے عموم کے مطابق عبادت میں ہر بدعت گمراہی ہے۔ ہمارے شیخ رحمہ اللہ نے اپنے رسالے ’’تلخیص صفۃ صلاۃ النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘ (ص۱۲) میں بیان کیا: رہا اس (نیت) کا زبان سے ادا کرنا تو وہ بدعت اور سنت کی مخالفت ہے، اور مقلد جن ائمہ کی تقلید کرتے ہیں ان میں سے کسی نے بھی اس کے بارے میں نہیں کہا۔ شیخ رحمہ اللہ نے ’’الصحیحۃ‘‘ (۶/۱۳۴) میں، تھوڑی سی تبدیلی کے ساتھ، بیان کیا ہے: زبان سے نیت کرنے کے سلسلے میں شافعیہ[2] میں سے بعض خواہش پرستوں کا اختلاف ہے جنہوں نے
[1] مثلاً دو رکعت نماز فرض، منہ طرف قبلہ کے اور پیچھے اس امام کے … (مترجم). [2] انہوں نے یہ ایک غلطی کی اتباع کرتے ہوئے کہا ہے جس میں ابو عبداللہ الزبیری شافعی امام شافعی رحمہ اللہ کے خلاف واقع ہوا ہے، جب اس نے ایک طرح سے اس زعم کی وجہ سے امام کے کلام سے استدلال کیا ہے کہ وہ نماز میں زبان سے نیت کرنا واجب ٹھہراتے ہیں! اس کی غلطی کا سبب: وہ شافعی کی عبارت کو نہیں سمجھ سکا۔ شافعی کی عبارت یہ ہے: ’’جب اس نے حج یا عمرہ کی نیت کی تو وہ کافی ہے، اگرچہ زبان سے ادا نہ کرے، اور وہ نماز کی طرح نہیں وہ صرف نطق ہی سے درست ہوتی ہے۔‘‘ نووی نے فرمایا: ’’ہمارے اصحاب نے بیان کیا: اس قائل نے غلطی کی، شافعی کا نماز میں نطق سے یہ مطلب نہیں، بلکہ ان کی مراد تکبیر ہے۔‘‘ ابن ابی العز الحنفی نے بیان کیا: ’’ائمہ اربعہ میں سے کسی نے نہیں کہا اور نہ ہی شافعی ودیگر نے کہا کہ زبانی نیت کرنا شرط ہے، ان کا اس پر اتفاق ہے کہ نیت کا محل دل ہے، مگر بعض متاخرین نے اسے زبان سے ادا کرنا واجب قرار دیا، اور ایک طرح سے مذہب شافعی میں ظاہر ہوا! نووی رحمہ اللہ نے فرمایا: وہ غلط ہے، انتہی، اس سے پہلے اس پر اجماع ہوچکا ہے۔‘‘ ابن القیم نے بیان کیا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تھے، تو آپ پڑھتے تھے: ’’اللّٰہ اکبر‘‘۔ اور آپ نے اس سے پہلے کچھ نہ کہا، اور آپ نے زبان سے بالکل نیت نہیں کی، اور آپ نے یوں بھی نہیں کہا: میں اللہ کے لیے فلاں نماز پڑھ رہا ہوں، قبلہ کی طرف رخ ہے، چار رکعت نماز ہے امام کے طور پر یا مقتدی کے طور پر اور آپ نے یہ بھی نہیں فرمایا: ادا کے طور پر نہ قضاء کے طور پر اور نہ ہی وقت کی فرض نماز، یہ دس بدعات ہیں، ان کے بارے میں کسی نے بھی صحیح اسناد سے کچھ نقل کیا نہ ضعیف سے اور نہ ہی مسند نہ مرسل سے، اس بارے میں ایک بھی لفظ منقول نہیں، بلکہ آپ کے کسی صحابی سے بھی منقول نہیں، تابعین میں سے کسی نے اسے مستحسن قرار دیا نہ چاروں اماموں نے، شافعی رحمہ اللہ کے نماز کے بارے میں قول نے بعض متاخرین کو غلط فہمی میں مبتلا کر دیا، کہ وہ نماز کی طرح نہیں، اس میں کوئی ذکر کے بغیر شامل نہ ہو، اس نے گمان کیا کہ ذکر سے نماز کا زبان سے نیت کرنا مراد ہے، جبکہ شافعی رحمہ اللہ نے ذکر سے تکبیر تحریمہ مراد لی، اس کے علاوہ اور کچھ نہیں، اور شافعی رحمہ اللہ کسی امر کو کس طرح مستحب قرار دے سکتے ہیں جسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی ایک نماز میں کیا نہ آپ کے خلفاء اور آپ کے اصحاب میں سے کسی نے کیا، یہ ان کا طریقہ اور ان کی سیرت ہے، اگر کسی نے اس بارے میں ان سے ایک حرف بھی ہمیں پیش کیا ہم نے اسے قبول کیا، اور ہم نے اسے دل وجان سے قبول کیا اور اس کا استقبال کیا، ان کے طریقے سے زیادہ کامل کوئی طریقہ نہیں، اور سنت وہی ہے جسے انہوں نے صاحب شرع صلی اللہ علیہ وسلم سے حاصل کیا۔میری کتاب ’’القول المبین فی اخطاء المصلین‘‘ (ص۹۱۔۹۲) ملاحظہ فرمائیں.