کتاب: بدعت کا انسائکلوپیڈیا(قاموس البدع) - صفحہ 395
۱۵… کسی اسلامی ملک میں متحدہ اذان کی وجہ سے سینکڑوں مساجد سے اذان کی شعیرہ (علامت، نشانی) کی تعطیل، جو کہ سارے اسلامی ممالک کے سلف و خلف کے اجماع کے خلاف ہے[1] ……………………………………………………………
[1] فائدہ:(۱)…: ہمارے شیخ رحمہ اللہ نے ’’الصحیحۃ‘‘ (۷/۱۳۰۲۔۱۳۰۴) میں حدیث رقم (۳۴۴۰) کے تحت بیان کیا، اور اس کی نص یہ ہے:’’اللہ کے پسندیدہ بندے وہ ہیں جو اللہ عز و جل کے ذکر کے لیے سورج، چاند، ستارے اور سایوں کا لحاظ رکھتے ہیں۔‘‘ پھر اس مناسبت سے میرے لیے ضروری ہے کہ میں اس حدیث اور اس میں جو نکات ہیں ان کے متعلق کوئی بات کروں، میں کہتا ہوں: اہل علم پر یہ مخفی نہیں کہ اذان شعائر اسلام میں سے ایک شعیرہ ہے، کیونکہ اس کی فضیلت میں ’’الصحاح‘‘ اور ’’السنن‘‘ وغیرہ میں بہت معروف حدیثیں آئی ہیں، میں نے دو اسباب کی وجہ سے یہاں اس کی تخریج کا قصد کیا: (ا) اس کی اسناد میں کلام کی تحقیق، اور ان حضرات کے بارے میں تحقیق جنہوں نے اسے صحیح قرار دیا: کیا انہوں نے اسے صحیح قرار دینے میں درست کہا یا ان سے غلطی ہو گئی؟ پھر حدیث کے علمی قواعد کے تقاضے کے مطابق اس پر صحیح، حسن یا ضعیف کا حکم، اور میں نے اللہ عزوجل سے یہ امید رکھتے ہوئے کہ وہ مجھے اپنی پسند کے مطابق درست بات کرنے کی توفیق عنایت فرمائے‘ یہ کام کیا۔ (ب) اس چیز کے متعلق یاد دہانی اور نصیحت جو اس اسلامی شعار کے متعلق بعض مساجد میں سستی، لاپروائی، اس کے عدم اہتمام اور اسے معطل کر دینے کے حوالے سے مظاہرہ کیا جاتا ہے جو کہ مؤذنوں پر واجب تھا کہ وہ ان (مساجد) میں بلند آواز سے اذان دیتے ، جبکہ وہ صرف اس اذان پر اکتفا کرتے ہیں جو الیکٹرانک میڈیا سے بعض اسلامی ممالک میں سرکاری اذان دی جاتی ہے اور وہ اذان فلکی وقت کی بنا پر دی جاتی ہے، جو بعض اوقات شرعی وقت کے مطابق نہیں ہوتی، بہت سے علاقوں میں ہمیں پتہ چلا ہے کہ فجر کی اذان صبح صادق سے تقریباً پندرہ منٹ یا اس سے بھی پہلے دے دی جاتی ہے، اور یہ علاقوں کے اختلاف کی وجہ سے مختلف ہے، ظہر تقریباً پندرہ منٹ پہلے، مغرب تقریباً دس منٹ بعد، اور عشاء تقریباً آدھا گھنٹہ بعد! اور یہ جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں بعض نمازیں وقت شرعی سے پہلے پڑھی جاتی ہیں جس کا بگاڑ مخفی نہیں، اور سبب واضح ہے؟ وہ شرع سے لاعلمی، اور علم فلکی اور اس کے اس حساب پر اعتماد ہے جو شرع کے خلاف ہے! وہ امر جس نے ان مؤذنوں کو جو اپنی مساجد میں اذان دیتے ہیں، بدل دیا، وہ سرکاری اذان پر اکتفا نہیں کرتے وہ بصری رؤیت پر مبنی شرعی اوقات کار سے بالکل ناواقف ہیں، جنہیں ہر مکلف کے لے جاننا آسان ہے، شرع سے اس کی معرفت حاصل کر لینے کے بعد اس بارے میں امّی (ان پڑھ) میں اور اس کے علاوہ کسی دوسرے میں کوئی فرق نہیں، سفید روشنی کے بلند ہونے اور اس کے افق پر پھیلنے پر فجر کا وقت ہو جاتا ہے، سورج کے آسمان کے وسط سے ڈھلنے پر ظہر کا وقت ہو جاتا ہے، جب ہر چیز کا سایہ اس کے مثل ہو جائے اور اس کے ساتھ زوال کا سایہ شامل کر لیا جائے تو عصر کا وقت ہو جاتا ہے، مغرب کا وقت سورج کے غروب ہونے اور اس کے افق کے پیچھے چھپ جانے پر ہوتا ہے، اور عشاء کا وقت سرخ شفق کے ختم ہونے پر شرع ہوتا ہے۔ اور اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ مواقیت ممالک کے مختلف ہونے اور ان کے زمین پر طول و عرض کے خطوط کے حساب سے زمین کی مختلف جگہوں میں واقع ہونے کے حساب سے بدلتے ہیں، اور دوسری جہت میں یہ نشیب و فراز میں واقع ہونے سے بھی یہ اوقات بدلتے ہیں، وہ امر جو مؤذنوں پر واجب کرتا ہے وہ اس کا لحاظ رکھنا اور اس سے آگاہی حاصل کرنا ہے، بڑا شہر جیسے قاہرہ مثلاً، تو اس کے مشرقی حصے پر فجر اس کے مغربی حصے سے پہلے طلوع ہوتی ہے، اور اسی طرح باقی اوقات کے بارے میں کہا جائے گا، بلکہ کبھی وہ شہر بھی ہو سکتا ہے جو اپنی وسعت میں قاہرہ کی طرح نہیں جیسے دمشق مثلاً، پس جو مثال کے طور پر جبل قاسیون میں ہو تو اس کے اوقات اس سے مختلف ہوں گے جو اس کے وسط میں ہو، یا اس کی مسجد مسجد بنی امیہ میں یا مثلاً زیریں علاقے میں ہو، اس کے باوجود وہاں کے سارے باشندے جو بالائی علاقے میں ہوں یا زیریں علاقے میں وہ اپنی مسجد کی اذان پر نماز پڑھتے، روزہ رکھتے اور افطار کرتے ہیں۔ ہم دور نہیں جاتے، میں اور میرے ساتھ والے نے ٭ عمان کی کسی بستی میں (جب ہم اس کی مسجد میں نماز مغرب کے لیے گئے) سورج کو بعد میں غروب ہوتے ہوئے دیکھا جبکہ عمان کے کسی علاقے سے حکومتی ادارے نشر واشاعت سے اذان ہو رہی تھی، اس طرح کا اور اس سے متضاد مشاہدہ بہت سے شہروں میں دیکھنے کو ملتا ہے جیسا کہ ہم نے دیکھا اور اپنے علاوہ دیگر سے سنا، میں نے کسی دوسری جگہ پر تعلیقات و توجیہات میں اسے بیان کیا ہے۔ مقصود یہ ہے: اس حدیث میں اذان دینے والوں کی مذکورہ تعریف کے وہ غیر مستحق ٹھہرے۔ وہ اس وجہ سے کہ وہ سورج اور … نماز کے اوقات کی معرفت کا خیال نہیں کرتے جس کے وہ امین تھے‘ جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے حق میں اپنے اس فرمان میں دعا فرمائی: ’’امام ضامن ہے، اور مؤذن قابل اعتماد ہے، اے اللہ! ائمہ کی راہنمائی فرما اور اذان دینے والوں کی مغفرت فرما۔‘‘ ہو سکتا ہے کہ جو مومنوں میں سے اپنی اذان کا مالک ہو، اور جودین کے احکام کے بارے میں غیور حکام میں سے ہو وہ اذان دینے والوں کو اہمیت دیں اور ان کی اپنے دین اور اپنی اذان کے احکام میں ان کی راہنمائی کریں اور وہ انہیں ادائے امانت کا اختیار دیں جو ان کے سپرد ہے، اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان: ’’کُلُّکُمْ رَاعٍ وَ کُلُّکُمْ مَسْؤلٌ عَنْ رَّعِیَّتِہٖ‘‘ ’’تم سب ذمہ دار ہو اورر تم سب سے اپنی اپنی رعیت کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔‘‘ جانتے ہیں۔ (۲)…: ہمارے شیخ نے ’’الصحیحۃ‘‘ (۷/۱۶۷۱۔۱۶۷۲) میں بھی فرمایا: ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ٭ابوعبیدہ کہتے ہیں: میں اس دن شیخ رحمہ اللہ کے ساتھ ایک اجتماع میں تھا، ناعور میں کسی بھائی کے گھر میں ہمیں افطار کی دعوت دی گئی، ہم نے سناکہ موذن اس وقت اذان دے رہا تھا جب سورج اوپر اور واضح دکھائی دے رہا تھا۔ ولا قوۃ الا باللہ!. اور میں نے وہاں (یعنی: ’’صحیح موارد الظمآن‘‘ میں) ذکر کیا کہ ان اذان دینے والوں پر اعتماد کی نحوست میں سے ہے جو فلکی ٹائم ٹیبل پر اذان دیتے ہیں جو کہ جنتریوں میں مذکور ہے، کہ بعض لوگ وقت سے پہلے افطار کر لیتے ہیں، کیونکہ ان میں سے بعض وقت سے پہلے اذان دے دیتے ہیں، اور ان میں سے بعض وقت کے بعد، اور اس امر کا ہم نے اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کیا ہے، اور ہم نے اسے اپنے کانوں سے سنا ہے، لہٰذا مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ اس شرعی اذان کی محافظت کریں۔ جس کا وقت ایک علاقے سے دوسرے علاقے سے مختلف ہوتا ہے، اور یہ کہ وہ عبادات کو ان کے شرعی اوقات میں بجا لائیں۔ (۳)…: ہمارے شیخ رحمہ اللہ نے ’’صحیح الترغیب‘‘ (۱/۵۸۸) میں حدیث رقم (۱۰۰۵) کے تحت منذری رحمہ اللہ کے اس قول کی شرح بیان کرتے ہوئے کہا جس میں انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کے ایک جزء کی شرح کی ہے: ’’جو اپنے روزے وقت سے پہلے افطار کر لیتے ہیں،‘‘: ابو عبیدہ نے بیان کیا: ہم ایک روز شیخ رحمہ اللہ کے ساتھ ایک اجتماع میں تھے ہمیں ناعور میں ہمارے کسی بھائی کے گھر افطار کی دعوت دی گئی تھی، ہم نے مؤذن کو اذان دیتے ہوئے سنا جبکہ سورج آنکھوں کے سامنے نظر آ رہا تھا، ولا قوۃ الا باللہ! الذین یفطرون قبل تحلۃ صومہم کا معنی ہے: ’’وہ وقت سے پہلے افطار کرتے ہیں‘‘ ہمارے شیخ نے فرمایا:یعنی: غروب آفتاب سے پہلے، نہ کہ اذان سے پہلے، جیسا کہ بعض جاہل سمجھتے ہیں، اسی لیے وہ ان سے ناراض ہیں جو شیعہ کی مخالفت کرتے ہوئے اور صحیح سنت کی اتباع کرتے ہوئے غروب آفتاب پر افطار کرنے میں جلدی کرتے ہیں، اور ان پر تاخیر لازم قرار دیتے ہیں حتی کہ اذان ہو جائے جو کہ بعض علاقوں میں دس منٹ مؤخر ہو جاتی ہے، کیونکہ وہ تقویم فلکی پر اذان دیتے ہیں نہ کہ بصری رؤیت پر، جبکہ یہ ایک ملک سے دوسرے ملک تک، ایک علاقے سے دوسرے علاقے تک، بلکہ ایک علاقے سے دوسرے علاقے تک ایک ہی ملک و شہر میں مختلف ہوتا ہے جیسا کہ وہ مشاہدے میں ہے، ہم نے بعض علاقوں میں اذان سنی جبکہ سورج غروب نہیں ہوا تھا! فاعتبروا یا اولی الابصار۔ (بصارت والو! عبرت حاصل کرو۔) (۴)…: متحدہ اذان پر مرتب ہونے والے شرعی مصائب میری کتاب ’’القول المبین‘‘ (ص۱۷۵۔ ۱۷۷) میں ملاحظہ فرمائیں۔