کتاب: بدعت کا انسائکلوپیڈیا(قاموس البدع) - صفحہ 393
اور انہوں نے ’’صحیح سنن ابی داوٗد‘‘ (۲/۴۱۵۔ ط۔ غراس) میں حدیث رقم (۵۱۵) کے تحت ابو محذورہ کی اذان کے بارے میں روایت کی تخریج کے وقت بیان کیا: ’’جان لیجیے کہ سابقہ روایت میں۔ ’’اگر صبح کی نماز ہو، تو آپ کہیں: ’’الصلوۃ خیر من النوم‘‘! تو یہ مطلق ہے، اور اس روایت میں فجر کی پہلی اذان کے ساتھ تقیید ہے۔‘‘ اور یہی درست ہے: سنت یہ ہے کہ اس جملے کو فجر کی اذان اوّل میں کہا جائے، اور اس پر مختلف طرق سے احادیث آئی ہیں، میں نے انہیں ’’الثمر المستطاب‘‘ میں ذکر کیا ہے! ان میں سے کسی میں بھی نہیں کہ وہ فجر کی دوسری اذان میں ہے،جس پر لوگ آج خلاف سنت عمل پیرا ہیں، اور اس کی دوسری اذان کو چھوڑ کر پہلی اذان کے ساتھ تخصیص انتہائی معقول ہے! تاکہ دونوں کے درمیان تفریق ہو سکے! کیونکہ پہلی اذان سحری کا کھانا حرام کرتی ہے نہ فجر کی نماز پڑھنا حلال کرتی ہے، جبکہ دوسری اذان اس کے برعکس ہے (اس سے سحری کھانا حرام اور نماز فجر پڑھنا حلال ہو جاتا ہے۔) ۱۳… اذان کے بعد یوں تثویب کہنا: الصلوۃ رحمکم اللہ، الصلوۃ ہمارے شیخ رحمہ اللہ نے ’’الإرواء‘‘ (۱/۲۵۵) میں اثر رقم (۲۳۶) کے تحت بیان کیا: ’’ابن عمر کسی مسجد میں نماز پڑھنے کے لیے داخل ہوئے، تو انہوں نے ایک آدمی کواذان ظہر میں تثویب کہتے ہوئے سنا تو وہ باہر تشریف لے آئے، اور فرمایا: ’’اس بدعت نے مجھے باہر نکال دیا۔‘‘[1] فائدہ…: یہاں تثویب سے اذان کے بعد مؤذن کا یوں اعلان کرنا مراد ہے: الصلوۃ رحمکم اللہ، الصلوٰۃ، وہ اس کی طرف بار بار بلاتا ہے۔ اور وہ بدعت ہے جیسا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا، اگرچہ وہ بعض علاقوں میں عام ہو۔ اور ہمارے شیخ رحمہ اللہ نے ’’المشکاۃ‘‘ (۱/۲۰۴)[2] میں اسی طرح بیان کیا: رہا اذان کے بعد یوں کہنا: ’’الصلاۃ الصلاۃ یرحمکم اللہ‘‘، تو یہ منکر بدعت ہے، اہل علم نے اسے مکروہ قرار دیا ہے! جیسے ابن عمر رضی اللہ عنہ اور اسحاق بن راہویہ، جیسا کہ امام ترمذی نے اسے بیان کیا ہے۔
[1] حسن: ابو داؤد (۵۳۸) نے اسے روایت کیا، اور ان سے بیہقی (۱/۴۲۴) نے اور طبرانی نے ’’الکبیر‘‘ (۳/۲۰۳/۲) میں سفیان سے۔ حدثنا ابو یحیی القتات، عن مجاہد، انہوں نے کہا: میں ابن عمر کے ساتھ تھا ایک آدمی نے ظہر یا عصر کی اذان میں تثویب کہی، انہوں نے فرمایا: یہاں سے باہر چلیں کیونکہ یہ بدعت ہے۔‘‘ (منہ) اس کی اسناد حسن ہے، ’’صحیح سنن ابی داود‘‘ (۳/۵۱ رقم ۵۴۹۔ ط۔ غراس)، اور انہوں نے تخریج کو اس پر ترمذی (۱/۳۸۱) کی تعلیق نقل کر کے ختم کیا اور اس میں ہے: ’’عبداللہ بن عمر مسجد سے باہر نکل آئے، اور انہوں نے فرمایا: ہمیں اس بدعتی کے پاس سے لے چلو، اور انہوں نے وہاں نماز نہ پڑھی۔‘‘. [2] ہدایۃ الرواۃ الی تخریج احادیث المصابیح والمشکاۃ (۱/ ۳۱۰).