کتاب: بدعت کا انسائکلوپیڈیا(قاموس البدع) - صفحہ 379
۵: عبادت، مذہب اور زہد کے طور پر سر کے بال مونڈنا
ہمارے شیخ نے مجلہ ’’الأصالۃ‘‘ (ص۵۵) شمارہ دوسرا، بتاریخ صفر ۱۴۱۵ ھ میں ’’أحکام حلق شعر الرأس‘‘ کے حوالے سے بیان کیا، انہوں نے کہا:
’’یہ کہ وہ اسے بندگی و مذہب اور زہد کے حوالے سے حج و عمرے کے بغیر مونڈے! [1] مثال کے طور پر وہ سرمونڈنے کو دین داروں کا شعار سمجھے، یا وہ سمجھے کہ اس سے زہد و عبادت مکمل ہوتی ہے، یا وہ سر کے بال منڈانے والے کو سر کے بال نہ منڈانے والے کی نسبت بہتر یا زیادہ دین دار یا زیادہ پارسا ٹھہراتا ہو، شیخ الاسلام رحمہ اللہ نے فرمایا:
’’یہ ایک بدعت ہے، اللہ نے اس کا حکم فرمایا نہ اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے، وہ ائمہ دین میں سے کسی کے ہاں بھی واجب ہے نہ مستحب، صحابہ، تابعین اور زہد و عبادت میں مشہور مسلمانوں کے شیوخ میں سے کسی نے ایسے کیا، نہ ہی ان کے بعد تبع تابعین میں سے کسی نے کیا۔‘‘
[1] سخاوی کے ’’الاجوبۃ المرضیۃ‘‘ (۲/۵۱۹۔۵۲۱) میں ایک سوال: ’’کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال ہمیشہ سیدھے لٹکتے رہتے تھے، یا کبھی تھے اور کبھی نہ تھے، کیا زلفیں (مینڈیاں) ظاہر تھیں یا آپ کے عمامے کے نیچے چھپی ہوتی تھیں؟… کا جواب ہے، اسے ملاحظہ فرمائیں.