کتاب: بدعت کا انسائکلوپیڈیا(قاموس البدع) - صفحہ 376
ابن حبان نے اسے ’’الثقات‘‘ (۳/۱۷۷) میں ذکر کیا، پس وہ سند میرے نزدیک حسن ہے، واللہ اعلم۔ میں نے کہا: اس بارے میں صحیح آثار ہیں جو اس پر دلالت کرتے ہیں کہ داڑھی کترنا یا اس کے کچھ بال کترنا سلف کے ہاں معروف امر تھا، ہمارے بعض اہل حدیث بھائیوں کے گمان کے خلاف جو کہ داڑھی کترنے کے مسئلے میں سختی کرتے ہیں، اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان: ’’وَاعْفُوا اللُّحٰی‘‘ ’’داڑھیاں بڑھاؤ/ داڑھیوں کو معاف کرو۔‘‘ کے عموم کو اختیار کرتے ہیں، انہوں نے عموم سے جو سمجھا ہے وہ اس سے باخبر نہیں کہ سلف کے اس پر عمل نہ ہونے کی وجہ سے وہ مراد نہیں جو وہ سمجھے ہیں، اور ان (سلف) میں وہ بھی ہیں جنہوں نے اس عموم مذکور کو روایت کیا ہے، وہ عبداللہ بن عمر … اور ان کی حدیث صحیحین میں ہے … ابو ہریرہ … اور ان کی روایت صحیح مسلم میں ہے اور وہ دونوں روایتیں ’’جلبات المرأۃ المسلمۃ‘‘ (ص۱۸۵۔ ۱۸۷۔ ط المکتبۃ الاسلامیۃ) میں منقول ہیں … اور ابن عباس ہیں اور ان کی روایت ’’مجمع الزوائد‘‘ (۵/۱۶۹) میں ہے۔ اور اس میں کوئی شک نہیں کہ حدیث روایت کرنے والا اس کی مراد سے ان لوگوں کی نسبت زیادہ جاننے والا ہوتا ہے جنہوں نے اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں سنا، اور وہ ان کی نسبت اس کی اتباع کرنے کا زیادہ حریص ہوتا ہے، یہ اس صورت میں جب یہ فرض کرلیا جائے کہ ’’الاعفاء‘‘ سے بڑھانا اور زیادہ کرنا مراد ہے جیسا کہ مشہور ہے، لیکن الباجی نے ’’شرح المؤطا‘‘ (۷/۲۶۶) میں القاضی ابو الولید سے نقل کرتے ہوئے کہا: ’’میرے نزدیک احتمال ہے کہ داڑھیوں کو معاف کرنے/ بڑھانے سے یہ مراد ہو کہ انہیں خوب کترنے سے معاف کیا جائے، کیونکہ اس کی کثرت جو ہے وہ اس کے ترک کرنے کے متعلق مامور نہیں، ابن القاسم نے مالک سے روایت کیا: داڑھی کے بکھرے ہوئے بالوں کی کانٹ چھانٹ کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں، مالک سے کہا گیا: جب وہ بہت زیادہ لمبی ہو؟ [1] انہوں نے فرمایا: ’’میں سمجھتا ہوں کہ اسے کترا جائے گا، عبداللہ بن عمر اور ابوہریرہ سے مروی ہے کہ وہ دونوں مٹھی بھر سے زائد داڑھی کتر دیا کرتے تھے۔‘‘
[1] میں نے شیخ رحمہ اللہ کو ایک لطیفہ سنایا وہ خوش ہوئے۔ اور انہوں نے اسے دیکھا جو ان کے قول کی تائید کرتا ہے جو انہوں نے یہاں ذکر کیا، اور وہ: جو المکناسی نے ’’درۃ الحجال‘‘ (۳/۳۷۔ ترجمۃ رقم ۹۳۵) (ضیاء بن سعد بن محمد القزوینی العفیفی) (متوفی ۷۸۰ھ) میں بیان کیا۔ انہوں نے کہا: اس کی داڑھی اتنی لمبی تھی کہ وہ پاؤں تک پہنچتی تھی، جب وہ سوتے تھے تو وہ تھیلی میں ہوتی تھی، اور جب سواری کرتے تھے تو وہ دو حصوں میں بٹ جاتی تھی۔‘‘ علماء اور معاصر محققین نے اسے مسئلے پر توجہ دی ہے، اور انہوں نے اس موضوع پر کتابیں تالیف کی ہیں! جیسے شیخ حمود التویجری رحمہ اللہ کا رسالہ: ’’الرد علی من اجاز تھذیب اللحیۃ‘‘ اور ہمارے دوست ڈاکٹر باسم الجوابرۃ کا مطبوعہ رسالہ جس کا عنوان ہے: ’’الحلیۃ فی حکم ما زاد عن القبضۃ من اللحیہ‘‘۔ مؤسسہ قرطبہ نے اسے شائع کیا ہے.