کتاب: بدعت کا انسائکلوپیڈیا(قاموس البدع) - صفحہ 373
ہمارے شیخ رحمہ اللہ نے ’’الضعیفۃ‘‘ (۵/۵) میں بیان کیا:
… وہ سنت جس پر سلف میں سے صحابہ، تابعین اور ائمہ مجتہدین کا عمل رہا ہے: وہ داڑھی کو بڑھانا ہے، سوائے اس کے جومٹھی سے زائد ہو، پس اسے کترا جائے گا۔ [1] بعض سلف سے قوی نصوص سے اس کی تائید ہوتی ہے، اور اسے مطلق طور پر بڑھانے کا بیان وہ اس قبیل سے ہے جسے امام شاطبی نے ’’البدع الاضافیہ‘‘ کا نام دیا ہے۔
ہمارے شیخ نے ’’الضعیفۃ‘‘ (۵/۱۲۵) میں حدیث رقم (۲۱۰۷) کے تحت بیان کیا:
وہ سنت جس پر سلف میں سے صحابہ اور ان کے علاوہ دیگر حضرات کا عمل رہا ہے وہ داڑھی کو بڑھانا ہے، سوائے اس کے جو مٹھی بھر سے زائد ہو! اسے کترا جائے، میں نے اسے کئی ایک مقام پر تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے، اور میں نے اس کے لیے قوی استدلال کیا ہے، اس وقت ان میں سے درج ذیل حدیث (۲۳۵۵) اور حدیث (۶۲۰۲) میرے ذہن میں آ رہی ہے۔
٭مٹھی بھر مقدار سے زائد داڑھی کترنے کے مسئلہ کی تفصیل:
ہمارے شیخ نے ’’الضعیفۃ‘‘ (۵/۳۷۵۔ ۳۸۰) میں حدیث رقم (۲۳۵۵) کے تحت بیان کیا:
جان لیجیے کہ اس روایت [2] کی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح روایت میں قولاً داڑھی کترنا ثابت ہے نہ گزشتہ روایت (۲۸۸)[3] کی طرح فعلاً ثابت ہے۔[4]
ہاں! یہ بعض سلف سے ثابت ہے، اس میں سے جو آسانی سے میسر ہے وہ حاضر ہے:
(۱)… مروان بن سالم مقفع سے، انہوں نے کہا:
[1] ہمارے شیخ رحمہ اللہ وجوب سمجھتے تھے، اور متقدمین میں سے جس نے اس کے متعلق کہا وہ اس پر نہیں ٹھہرے، میں نے ’’فتح القدیر‘‘ (۲/۳۴۷) میں ابن الہمام کا قول انہیں دکھایا: انہوں نے ’’النھایہ‘‘ میں بیان کیا: ’’جو اس۔ یعنی مٹھی۔ بھر کے بعد ہے اسے کاٹنا واجب ہے۔‘‘ تو وہ اس سے خوش ہوئے۔
تنبیہ: میں نے ایک مرتبہ انہیں کہتے ہوئے سنا: مٹھی بھر سے جو زائد ہے وہ اسبال ہے!! اس کے بعد کئی بار ان سے پوچھا گیا، تو وہ یہ کہتے تھے: کیا عدم مشروعیت کافی نہیں۔ میری کتاب ’’نوادر الالبانی‘‘ دیکھیں۔ اللہ اسے خیر وعافیت سے رکھے.
[2] یعنی حدیث: ’’اپنی داڑھی اور اپنے سر کے بالوں سے میں سے کچھ لو‘‘ (الضعیفۃ: ۲۳۵۵).
[3] یعنی: ’’الضعیفۃ‘‘ سے اور وہ یہ ہے: ’’آپ اپنی داڑھی کو اس کے طول و عرض سے کترتے تھے.
[4] داڑھی کے مسئلے میں اسی پر عمل ہونا چاہیے۔ کسی بھی صحیح حدیث میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے قولاً یا فعلاً داڑھی کٹوانا ثابت نہیں۔ موقوف روایات سے دین ثابت نہیں ہوتا۔ نیز علامہ البانی رحمہ اللہ کے پیش کردہ بیشتر آثار اور موقوف روایات ضعیف ہیں جیسا کہ ان کے حوالہ جات سے ہی ظاہر ہے۔ ان کے حوالے سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ سے دئیے گئے ہیں۔ مزید برآں حدیث وسنت کے مقابلے میں امتی کا قول وفعل پیش کرنا منہج سلف کے خلاف ہے۔ عمل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قول وفعل پر ہونا چاہیے نہ کہ حدیث روایت کرنے والے راوی کے عمل اور رائے پر۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے داڑھی کے بارے میں مشرکین اور مجوس کی مخالفت کا حکم دیا ہے۔ ان میں بعض منڈواتے اور بعض کٹواتے تھے لہٰذا ان دونوں امور سے بچ کر ہی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول وفعل پر عمل ہوسکتا ہے۔ واللہ اعلم (شہباز حسن).