کتاب: بدعت کا انسائکلوپیڈیا(قاموس البدع) - صفحہ 362
فطرت کی بدعات
۱: داڑھیاں مونڈنا
ہمارے شیخ الالبانی رحمہ اللہ نے ’’اللحیۃ فی نظر الدین‘‘[1] رسالے (ص۱۶۔ ۱۷) میں فرمایا:
شیخ علی محفوظ نے اپنی علمی کتاب ’’الابداع فی مضار الابتداع‘‘ میں بیان کیا، آپ رحمہ اللہ نے جو بیان کیا اس کا خلاصہ یہ ہے:
بہت زیادہ قبیح بدعات میں سے ہے کہ آج جو لوگ داڑھیاں مونڈنے کے عادی ہو گئے ہیں، اور یہ بدعت مقامی لوگوں میں غیر ملکیوں کے ساتھ رہن سہن اور ان کی عادتوں کو اچھا سمجھنے سے آئی، حتیٰ کہ انہوں نے اپنے دین کے محاسن کو برا سمجھا اور اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو ترک کر دیا۔
ہمارے شیخ رحمہ اللہ نے ان لوگوں پر تعجب کرتے ہوئے کہا، جو ایک موضوع روایت کا سہارا لیتے ہوئے نماز کے لیے عمامہ ضرور باندھتے ہیں، جبکہ ان کی داڑھیاں مونڈی ہوتی ہیں، ’’الضعیفۃ‘‘ (۱/۲۵۴) حدیث رقم (۱۲۹) کے تحت بیان کیا:
عجائب میں سے ہے کہ تم ان بعض لوگوں کو داڑھی مونڈنے کے گناہ کا ارتکاب کرتے ہوئے دیکھو گے، جب وہ نماز کا قصد کرتے ہیں انہیں معلوم نہیں ہوتا کہ ان کے اس تساہل کے باعث کون سا نقص ان سے وابستہ ہو جائے گا، اور وہ کبھی اہمیت نہیں دیتے۔ رہی عمامے میں نماز، تو وہ ایسا امر ہے جسے وہ بہت اہمیت دیتے ہیں! [2]
[1] میں نے لشیخ رحمہ اللہ کو اس کے متعلق بتایا، جبکہ وہ اسے بھول چکے تھے، اور میں نے اسے اپنی کتاب ’’مقالات الالبانی‘‘ میں بیان کیا۔ عنقریب اس کی روشنی (اشاعت) دیکھی جائے گی۔ ان شاء اللّٰہ.
[2] اس مسئلہ میں ہمارے شیخ الالبانی کا بہت علمی اور عمدہ کلام ہے۔ جسے انہوں نے مجلہ ’’المسلمون‘‘ (۶/۹۰۶۔۹۱۳) بتاریخ ۲۶/۲/۱۳۷۹ھ میں ’’الأحادیث فی العمامۃ‘‘ کے عنوان کے تحت تحریر فرمایا، اور اس اصول کے مطابق اس کا ضعف بیان کیا جو کہ علمائے حدیث کے ہاں مقرر ہے۔ اور وہ شیخ محمد الحامد پر ان کے مقالے پر رد ہے جو اسی مجلہ میں ’’العمامۃ فی الاسلام‘‘ کے عنوان کے شائع ہوا، اور وہ شیخ علی طنطاوی کے کلام پر گرفت کے طور پر ہے، اور اس کا عنوان ہے: ’’صناعۃ المشیخۃ‘‘ انہوں نے کہا: ’’خلاصہ یہ ہے کہ یہ تمام احادیث انتہائی ضعیف ہیں، وہ اس قدر کمزور اور شدید ضعیف ہیں کہ ان کا دوسرے طرق سے قوی ہونا بھی ممکن نہیں۔
پھر جس وقت میں ان احادیث کو قطعی ضعیف بیان کرتا ہوں، میں یہ بیان کرنا نہیں بھولتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمامہ باندھنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے سے عربوں کی معروف عادت اور رواج کے مطابق تھا اور یہ ایک ایسا امر ہے جو صحیح احادیث میں ثابت ہے کوئی اس کاانکار نہیں کر سکتا، جب اس سے ملایا جائے جسے حافظ شیخ الحامد نے ذکر کیا ہے، اس حوالے سے کہ اسلام اپنے پیروکاروں کو خاص طرح پر ہونا پسند کرتا ہے، وہ ان کو اس سے بچاتا ہے کہ وہ ظاہری ہیئت میں اپنے علاوہ دوسروں سے اختلاط کریں… ان کے عمدہ کلام کے آخر تک۔ جس میں انہوں نے ’’الاقتضاء‘‘ میں منقول شیخ الاسلام ابن تیمیہ کے قول کی تفصیل بیان کی ہے، بے شک میں نتیجہ میں عمامے پر ترغیب کے حوالے سے جناب شیخ کے ساتھ ہوں، لیکن میں اسے داڑھی کے لزوم کی طرح امر لازم نہیں سمجھتا جس کے متعلق صحیح احادیث میں حکم ثابت ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان ((خالفوا المجوس)) (صحیح مسلم)، ’’مجوسیوں کی مخالفت کرو۔‘‘ کا سبب بھی بیان کیا گیا ہے۔ اسی لیے میں عمامے کے بارے میں زیادہ اصرار نہیں کرتا جبکہ داڑھی کے بارے میں اصرار ضروری سمجھتا ہوں اور میں بعض شرعی مکاتب فکر کے داڑھی کی نسبت عمامے کے متعلق زیادہ اہتمام کرنے کو سخت ناپسند کرتا ہوں، وہ اس طرح کہ جب وہ طلباء کو دوسری (داڑھی رکھنے) کے علاوہ پہلی (عمامہ باندھنے) کے متعلق حکم دیتے ہیں یا اس سے زیادہ، اور وہ ان طلباء کو کچھ نہیں کہتے جو داڑھیاں منڈاتے ہیں اور جو عمامہ نہیں باندھتے ان پر نکیر کرتے ہیں۔ اس میں حکم شرعی کو الٹ دینا ہے، جیسا کہ بالکل واضح ہے۔
آخر پر میں اللہ تبارک و تعالیٰ سے اس کے اسمائے حسنی کے ذریعے سوال کرتا ہوں کہ وہ ہمارے علم کے مطابق ہمیں عمل کرنے کی توفیق عنایت فرمائے، اور فضیلۃ شیخ حامد کو میری طرف سے السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ۔‘‘.