کتاب: بدعت کا انسائکلوپیڈیا(قاموس البدع) - صفحہ 348
اس کے متعلق اثر پہنچا تو انہوں نے اسے جائز قرار دیا۔
میں کہتا ہوں: لیکن وہ اثر (روایت) جس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے وہ باطل ہے، صحیح نہیں، ابن الجوزی نے اسے ’’موضوعات‘‘ میں روایت کیا ہے، اور انہوں نے فرمایا: ’’یہ روایت بلاشک موضوع ہے۔‘‘ اور حافظ زیلعی نے اسے ’’نصب الرایۃ‘‘ (۲۷۳) میں اسے ثابت رکھا ہے، پس وہ قابل حجت دلیل نہیں…‘‘
پھر ہمارے شیخ رحمہ اللہ نے اس پر ایک طویل فصل قائم کی، وہ چوتھی فصل ہے: ’’شبھات و الجواب علیھا‘‘ انہوں نے اس میں بدعتی وسیلے کو جائز قرار دینے والوں کا (ص۵۵) سے آخر کتاب تک حدیث کے طور پر اور فقہی طور پر مناقشہ اور تجزیہ کیا ہے، پس جو شخص اس سے واقف ہونا چاہے تو وہ اس کی طرف رجوع کرے، اس میں حق کے ہر متلاشی کے لیے قیمتی اور مفید بحثیں ہیں۔
ہمارے شیخ رحمہ اللہ نے ’’التوسل‘‘ (ص۱۰۱۔۱۰۲) میں ’’تیسرے شبہے‘‘ کے تحت بیان کیا:
’’التوسل‘‘ میں ضعیف احادیث:
بدعتی توسل کو جائز قرار دینے والے بہت سی احادیث سے دلیل لیتے ہیں، جب ہم نے ان پر غور و فکر کیا تو ہم انہیں دو انواع کے تحت پاتے ہیں[1] :
پہلي قسم:… وہ جس کی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نسبت ثابت ہو، لیکن وہ ان کی مراد پر دلالت نہیں کرتی، اور وہ ان کی رائے کی بھی تائید نہیں کرتی جیسا کہ نا بینے شخص کی روایت ہے …[2]
دوسري قسم:… وہ جس کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نسبت ثابت نہیں، اس نوع کی بعض احادیث ان کی مراد پر دلالت کرتی ہیں اور بعض دلالت نہیں کرتیں، اور یہ احادیث وہ ہیں جو زیادہ تر صحیح نہیں۔[3]
[1] دیکھیں: ’’الضعیفۃ‘‘ (۱/۷۷،۷۹).
[2] اسے کتاب ’’التوسل‘‘ میں اس کی جگہ پر دیکھیں، مثال کے طور پر، نہ کہ حصر کے طور پر، ہم دو حدیثیں ذکر کرتے ہیں:
(۱)… عمر بن خطاب کا عباس بن عبدالمطلب سے بارش کے لیے دعا کرانا اور ہمارے شیخ نے اس سے استدلال کرنے والوں کا ’’التوسل‘‘ (ص۵۵۔۷۵) میں تفصیل سے رد کیا ہے جو زندہ کے مردہ سے توسل کو جائز قرار دیتے ہیں، اور انہوں نے اس مسئلے پر ’’مختصر البخاری‘‘ (۱/۲۰۶) رقم (۵۱۱) پر بھی بحث کی ہے۔
(۲)… حدیث: ’’تمہارے ضعفاء کی وجہ سے تمہاری مدد کی جاتی ہے اور تمہیں رزق دیا جاتا ہے۔‘‘ اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔
ہمارے شیخ رحمہ اللہ نے ’’المشکاۃ‘‘ (۳/۱۴۴۲) میں حدیث سابق، جس کا ’’المشکاۃ‘‘ میں (۵۲۳۲) نمبر ہے، پر تعلیقاً بیان کیا: یعنی: ان (ضعفاء کی دعاؤں اور ان کے اخلاص کی وجہ سے جیسا کہ بعض صحیح روایات میں ہے، پس اس حدیث میں اشخاص کے ذریعے توسل پر کوئی دلیل نہیں جیسا کہ بعض بدعتی لوگ گمان کرتے ہیں۔ (اسی طرح ’’ھدایۃ الرواۃ الی تخریج احادیث المصابیح والمشکاۃ‘‘ (۵/۲۹) میں ہے) نابینے سے متعلق حدیث کی ہماری تخریج الجنائیات میں دیکھیں۔ یہ ان شاء اللّٰہ عنقریب مکتبۃ المعارف کی طرف سے شائع ہوگی۔ ہمارے شیخ نے اس پر بحث و تحقیق کی اور ’’التوسل‘‘ (ص۱۰۲۔ ۱۳۴) میں اس کا ضعف بیان کیا.
[3] ہمارے شیخ نے ’’التوسل‘‘ (ص ۲۔۱ ۱۳۴) میں اس کا مناقشہ کیا اور اس کا ضعف بیان کیا.