کتاب: بدعت کا انسائکلوپیڈیا(قاموس البدع) - صفحہ 345
وجہ سے ان میں سے بہت سے انبیاء کی ذات یا ان کے حق یا ان کی حرمت یا ان کے مقام و مرتبہ کو وسیلہ بنانے کے شوقین ہیں، حالانکہ وہ استدلال غلط ہے، ان دو آیتوں کو اس پر محمول کرنا صحیح نہیں، کیونکہ وہ شرعاً ثابت نہیں کہ یہ توسل مشروع اور مرغوب ہے، اس لیے اس استدلال کو سلف صالح میں سے کسی ایک نے بھی ذکر کیا نہ توسل مذکور کو مستحب قرار دیا…
ہمارے شیخ البانی نے ’’التوسل‘‘ (ص۴۶۔۴۷) میں توسل کی شرعی انواع ذکر کرنے کے بعد فرمایا:
اور جو ان وسیلوں کی انواع کے علاوہ ہیں ان میں اختلاف ہے، ہم اپنے اعتقاد اور جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کو لائق عبادت مانتے ہیں اس کے مطابق تو یہ جائز ہیں نہ مشروع، کیونکہ ان کے بارے میں کوئی دلیل وارد نہیں ہوئی جو قابل حجت ہو، تمام اسلامی ادوار میں محقق علماء نے اس کا انکار کیا ہے، اس کے باوجود بعض ائمہ نے اس کے بعض کے متعلق کہا ہے! احمد نے صرف رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو وسیلہ بنانے کو جائز قرار دیا ہے، اور ان کے علاوہ۔ جیسے شوکانی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے علاوہ انبیاء اور صالح افراد کے ذریعے توسل اختیار کرنے کو جائز قرار دیا ہے، لیکن ہم۔ جیسا کہ تمام اختلافی امور میں ہمارا موقف ہے۔ تو دلیل کے مطابق اپنا موقف قائم کرتے ہیں، ہم آدمیوں کی طرف داری نہیں کرتے، اور ہم تو صرف حق ہی کو اپناتے ہیں، کسی شخصیت کو نہیں جیسا کہ ہم اسے دیکھتے‘
سمجھتے اور اس کا عقیدہ رکھتے ہیں، ہم نے اس توسل کے کی بحث میں دیکھا، ہمارا موقف یہ ہے کہ حق ان لوگوں کے سا تھ ہے جنہوں نے مخلوق کے ساتھ توسل اختیار کرنے سے منع کیا ہے، ہم نے اس کے جائز ہونے کے لیے کوئی صحیح دلیل نہیں دیکھی جو قابل اہمیت ہو، ہم ان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ہمیں کتاب و سنت سے کوئی صریح صحیح نص پیش کریں جس میں مخلوق کو وسیلہ بنانے کا ذکر ہو…
پھر انہوں نے فرمایا:
قرآن کریم میں وارد دعائیں۔ جو کہ بہت زیادہ ہیں۔ ہم ان میں سے کسی میں بھی مخلوقات میں سے کسی چیز کے مقام ومرتبہ یا حق یا حرمت یا عزت کے توسل کو نہیں پاتے۔
پھر ہمارے شیخ نے ’’التوسل‘‘ (ص۴۷۔۴۸) میں قرآن کریم سے دعائیں ذکر کیں، اور ان کے بعد بیان کیا:
’’… اور واضح ہے کہ ان میں اس توسل مبتدع میں سے کوئی چیز نہیں جس کے گرد متعصب گنگناتے ہیں اور مخالفین اس کے متعلق بحث و مباحثہ کرتے ہیں:
پھر انہوں نے (ص۴۸۔ ۴۹) بیان کیا:
جب ہم سنت مطہرہ کی طرف جاتے ہیں تو ہم اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ان دعاؤں پر آگاہی حاصل کرتے ہیں