کتاب: بدعت کا انسائکلوپیڈیا(قاموس البدع) - صفحہ 344
وسیلے کی بدعات
بدعتی وسیلہ
ہمارے شیخ نے مسئلہ توسل پر اپنی متعدد کتب میں بڑی طویل بحث کی ہے؟ مثلاً: ’’الضعیفۃ‘‘ جلد اوّل، ’’دفاع عن السنۃ النبویۃ‘‘ اور انہوں نے اس مسئلے کے تمام پہلوؤں کے حوالے سے ایک خاص کتاب تصنیف کی اور انہوں نے اس کا نام رکھا: ’’التوسل: أنواعہ و أحکامہ‘‘۔
اور انہوں نے مبتدع توسل پر لوگوں کی زبانوں پر رائج عبارات کے ذریعے مثالیں بیان کی ہیں، انہوں نے اپنی کتاب ’’التوسل‘‘ (ص۹) میں فرمایا:
مثلاً: ’’اللہ! اپنے نبی کے صدقے یا ان کا تیرے ہاں جو مقام و مرتبہ ہے اس کے صدقے مجھے عافیت دے اور مجھ سے درگزر فرما۔‘‘ اور: ’’اے اللہ! میں تجھ سے بیت الحرام کے صدقے تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تو مجھے بخش دے۔‘‘ اور: اے اللہ! فلاں فلاں اولیاء و صالحین کے صدقے اور فلاں اور فلاں کے صدقے۔‘‘
یا: ’’اے اللہ! اللہ کے بندوں کی تیرے ہاں عزت کے صدقے‘ ہم جس سے دور ہیں اس کے مقام کے صدقے، اور اس کے سہارے کے تحت، ہم سے اور غم کے ماروں سے غم دور کردے۔‘‘ اور ’’اے اللہ! ہم نے تیرے حضور اپنے عاجز ہاتھ پھیلا رکھے ہیں، ہم صاحب وسیلہ و شفاعت (آپ صلی اللہ علیہ وسلم ) کا تجھے واسطہ دیتے ہیں کہ تو اسلام اور مسلمانوں کی مدد فرما…‘‘
اور ہمارے شیخ رحمہ اللہ نے (ص ۱۵۔۱۶) فرمایا:
یہ عجیب بات ہے کہ بعض علم کا دعوی کرنے والوں نے درج ذیل دو آیتوں[1] سے استدلال کیا ہے جس کی
[1] پہلی آیت یہ ہے:
﴿یٰٓأَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَ ابْتَغُوْٓا اِلَیْہِ الْوَسِیْلَۃَ وَ جَاھِدُوْا فِیْ سَبِیْلِہٖ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ﴾ (المائدۃ:۳۵)
’’ایمان دارو! اللہ سے ڈرو اور اس کی طرف پہنچنے کا ذریعہ تلاش کرو، اور اس کی راہ میں جہاد کرو تا کہ تم فلاح پاؤ۔‘‘
دوسری آیت یہ ہے: ﴿اُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ یَبْتَغُوْنَ اِلٰی رَبِّھِمُ الْوَسِیْلَۃَ اَیُّھُمْ اَقْرَبُ وَ یَرْجُوْنَ رَحْمَتَہٗ وَ یَخَافُوْنَ عَذَابَہٗ اِنَّ عَذَابَ رَبِّکَ کَانَ مَحْذُوْرًا﴾ [الاسراء:۵۷]
’’جن کو وہ پکارتے ہیں وہ تو خود اپنے رب کی طرف وسیلہ (قرب) ڈھونڈتے ہیں، کہ کون ان میں سے قریب تر ہے، اور ہ اللہ کی رحمت کی امید رکھتے ہیں، اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہیں اور آپ کے رب کا عذاب بے شک ڈراؤنی چیز ہے۔‘‘.