کتاب: بدعت کا انسائکلوپیڈیا(قاموس البدع) - صفحہ 342
وکذلک القرآن عین کلامہ
المسموع منہ حقیقۃ ببیان
ھو قول ربی کلہ لا بعضہ
لفظا و معنی ما ھما خلفان
تنزیل رب العالمین ووحیہ
اللفظ و المعنی بلا روغان
’’اور اسی طرح قرآن اس کا عین کلام ہے‘ وہ اس سے حقیقی طور پر بیان کے ساتھ سنا گیا ہے۔ وہ سارے کا سارا میرے رب کا فرمان ہے نہ کہ اس کا بعض، اور وہ لفظاً و معنیً ایک ساتھ اس کی طرف سے ہے۔ رب العالمین کا نازل کردہ اور لفظ و معنی اس کی وحی ہے، اس میں کوئی دھوکا نہیں۔‘‘