کتاب: بدعت کا انسائکلوپیڈیا(قاموس البدع) - صفحہ 339
’’مختصر صحیح البخاری‘‘ (۴/۲۱۳) رقم (۲۵۸۵) ۹:… معتزلہ ، جہمیہ اور ان کا قول، کہ اللہ عزوجل ہر جگہ ہے، عرش پر نہیں: ’’الصحیحۃ‘‘ (۱/۸، ۷/۴۷۵،۴۷۷) ’’صحیح الأدب المفرد‘‘ (ص۲۸۲) رقم (۵۸۰/ ۷۵۳) ۔ ط۔ مکتبہ الدلیل۔ ۱۰:… معتزلہ اور ان کا عقلی طور پر کسی چیز کو اچھا اور برا ثابت کرنا اور عقل کو فیصل ماننا اور صحیح احادیث کو محض اس لیے ردّ کردینا کہ وہ ان کی خواہشات کے خلاف ہیں اور یہ رد اصلاً ہو یا جب وہ انھیں ان کی اصل سے ردّ نہ کرسکیں تو پھر تاویل کے طور پر ردّ کرنا[1]: ’’صحیح السیرۃ النبویۃ‘‘ (ص۲۴۔ ۲۵)
[1] !ان کے ہاں حسن و قبح کا معنی عقلی ہے، ان دونوں کی معرفت اور ان کے اخذ کرنے میں سمعی دلیل پر توقف نہیں کیا جائے گا، وہ حسن و قبح کو فعل کے لیے ذاتی صفات قرار دیتے ہیں جو کہ اس کے لیے لازم ہیں، اور وہ شرع کو ان صفات کو ظاہر کرنے والا قرار دیتے ہیں، صفات میں سے کسی چیز کے لیے سبب کے طور پر نہیں، اس کی تفصیل درج ذیل کتب میں دیکھی جا سکتی ہے: ’’مجموع فتاوی‘‘ (۸/۴۳۱ اور ۱۱/۶۷۷) ’’درء تعارض العقل والنقل‘‘ (۸/۴۹۲) ’’مدارج السالکین‘‘ (۱/۲۳۸) ’’مفتاح دار السعادہ‘‘ (۲/۸، ۹۳، ۱۰۵) ’’شرح الاصول الخمسۃ‘‘ (۴۱۔ ۴۷) ’’سلم الوصول شرح نہایۃ السول‘‘ (۱/۸۳) اور ’’ارشاد الفحول‘‘ (۷)۔ معتزلہ نے اس اصل پر متعدد امور مرتب کیے ہیں، ان میں سے: بے شک قبح عقل میں اس پر ذم و عقاب شرع میں مرتب کیا جائے گا، اور حسن عقل میں اس پر مدح و ثواب شرع میں مرتب کیا جائے گا، اور یہ کہ اللہ تعالیٰ پر واجب ہے کہ وہ اس کام کو سر انجام دے جسے عقل حسن قرار دے، اور اس پر وہ کام سرانجام دینا حرام ہے جیسے عقل قبیح قرار دے، اور یہ کہ مصلحت صرف فعل مامور ہی سے پیدا ہوتی ہے، جیسے صدق، عفت، احسان اور عدل، کیونکہ ان کے مصالح ان سے پیدا ہوتے ہیں، اور اس کے علاوہ امور جو اس اصل فاسد پرمرتب ہوتے ہیں اور وہ لوازم جو اس کے لیے لازمی ہیں، جیسا کہ ابن القیم نے ’’مفتاح دارالسعادۃ‘‘ (۲/۵۹۔۶۰ اور۱۰۵) میں اسے بیان کیا ہے۔ اس قول کے مقابل اشاعرہ کا قول ہے کہ حسن و قبح دو شرعی چیزیں ہیں، اس قول کے بھی فاسدہ لوازمات ہیں، انہوں نے التزام کیا اور ان کے متعلق کہا، ان میں سے ہے۔ جیسا کہ ابن لقیم ’’مفتاح دار السعادۃ‘‘ (۲/۴۲۔ ۵۲) میں بیان کرتے ہیں۔ کہ کاذب شخص کے ہاتھ پر معجزہ کا ظہور جائز ہے یہ کہ وہ قبیح نہیں، یہ کہ اصدق الصادقین (سب سے بڑھ کر سچے) کی طرف کذب کی نسبت جائز ہے، یہ کہ اس سے برا نہیں سمجھا جائے گا، ورود شرع سے پہلے تثلیث و توحید برابر ہے، شرک، بتوں کی پوجا اور معبود سبحانہ تعالیٰ کو برا بھلا کہنا کوئی قبیح نہیں، ماں اور بیٹی کے ساتھ شادی کرنا قبیح نہیں، ان کے علاوہ دیگر لوازم سے جو اس پر ظاہر ہوئے کہ یہ اشیاء عقل کی بنا پر قبیح نہیں، ان کے قبیح ہونے کی جہت صرف سمع (یعنی سن کر معلوم کرنا) ہے۔ یہ سب لوازم فاسدہ ہیں وہ لازم فساد پر دلالت کرتے ہیں، بلکہ اور ان کے اس قول پر لازم آتا ہے کہ یہ صحیح ہے کہ اللہ شرک کا حکم فرمائے! پس وہ قبیح نہ ہوگا، اسی طرح زنا، چوری، ظلم اور دیگر برائیوں کے متعلق حکم دے! پس یہ قبیح نہ ہو گا، اور ان کے نزدیک جائز ہو گاکہ وہ سبحانہ و تعالیٰ توحید، عفت و صدق اور عدل سے منع کر دے، پس یہ سب قبیح ہو گا، جس طرح ایجی نے ’’المواقف‘‘ (۳۲۳) میں بیان کیا: ’’اگر قضیہ عکس ہو، تو جو قبیح ہے وہ حسن ہو جائے گا اور جو قبیح ہے وہ حسن ہوجائے گا، کوئی روکنے والا نہ ہوگا اور معاملہ الٹ ہو جائے گا۔‘‘ تیسرا قول: وہ قول ان دونوں گروہوں کے درمیان ہے، اور وہ ان دونوں ظالم طرق کے درمیان معتدل طریق ہے، جب اس کے قائلین نے کہا۔ جیسا کہ’’مفتاح دار السعادۃ‘‘ (۲/۵۷) میں ہے۔ اے دونوں گروہو! تم میں سے ہر ایک کے ساتھ حق ہے اور باطل ہے، ہم ہر فریق کی اس کے حق پر مدد کریں گے اور اس کی طرف چلیں گے، اور اس کے ساتھ جو باطل ہے ہم اسے باطل قرار دیں گے اور اس کا رد کریں گے، ہم دونوں گروہوں کے حق کو تیسرا مذہب بنائیں گے، گوبر اور خون کے درمیان سے خالص دودھ نکلتا ہے وہ پینے والوں کے لیے خوش گوار ہے۔‘‘ اس قول کا خلاصہ یہ ہے کہ حسن و قبح عقل کے ذریعے حاصل ہوتے ہیں، لیکن یہ بندے کے فعل میں حکم کو لازم نہیں، بلکہ فعل امر و نہی کے استحقاق کے لیے صالح ہو گا یہ ثواب و عقاب اس حکیم (دانا) کی طرف سے ہے جو ایسی مخالف چیز کا حکم نہیں فرماتا جسے عقل حسن سمجھے، یا وہ اس مخالف چیز سے منع نہیں کرتا جسے عقل قبیح جانے؟ کیونکہ جس چیز کو عقل حسن یا قبیح جانے وہ راجح ہے اور اس کا مخالف مرجوح ہے۔ اس معنی میں: کہ فعل میں صفت حسن اس کے متعلق امر کی جانب اس کے مخالف امر قبیح کی جانب پر ترجیح رکھتی ہے، اور فعل میں صفت قبح اس سے نہی کی جانب اس کے مخالف حسن سے نہی کی جانب پر ترجیح رکھتی ہے، اس پر عمل کے لحاظ سے حکمت کا تقاضا ہے وہ حکمت جو اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی صفات میں سے ایک صفت ہے توحکم صرف خطاب شرعی سے ہے، اور امر ونہی الشارع الحکیم کی طرف سے ہے۔ اور یہ قول عام سلف اور زیادہ تر مسلمانوں کا ہے، جیسا کہ ’’مجموع فتاوی ابن تیمیہ‘‘ (۱۱/۶۷۷) میں ہے، اور اس قول کے قائلین اس بات میں اشاعرہ سے موافقت رکھتے ہیں کہ فعل کے بارے میں امر ونہی اور ثواب و عقاب کے متعلق حکم وحی کی طرف سے ہے، اور یہ کہ بندوں پر حجت رسالت کے ذریعے قائم ہوتی ہے، یہ کہ اللہ رسولوں کی بعثت سے پہلے انہیں عذاب نہیں دیتا، اور انہیں جوحکم پہنچا دیتا ہے اس کا ان سے مطالبہ کرتا ہے، اور اس نے جس چیز سے انہیں منع کیا ہو صرف اس کے ارتکاب پر انہیں سزا دیتا ہے۔ اور وہ اس بات میں معتزلہ سے موافقت رکھتے ہیں کہ کسی چیز کے اچھے یا برے ہونے کا فیصلہ عقل کرتی ہے، اور یہ کہ حسن و قبح افعال کی مستقل صفات ہیں جو عقل و شرع کے ذریعے معلوم ہیں، کیونکہ شریعت اس چیز کو ثابت کرنے آئی ہے جو حسن کی تحسین اور اس کے متعلق حکم کے متعلق ہے، اور قبیح کی تقبیح اور اس سے روکنے کے متعلق ہے جو کہ فطرت اور عقل کی رو سے مستحکم ہے، یہ کہ وہ ایسی چیز نہیں لائی جو عقل و فطرت کے خلاف ہو، اور وہ اللہ تعالیٰ کے لیے حکمت کے اثبات میں ان سے موافقت رکھتے ہیں، اور یہ کہ وہ (سبحانہ و تعالیٰ) حکمت سے خالی کوئی کام نہیں کرتا، بلکہ اس کے تمام افعال کا مقصود اس کے عواقب حمیدہ اور ان کی غایات محبوبہ ہے۔ یہ لائق ذکر ہے کہ مصالح و مفاسد کا عقل کے ذریعے ادراک کے متعلق قول سے یہ مراد نہیں کہ اس کا ادراک مطلق طور پر مکمل و کامل ہے، بلکہ وہ پا بھی لیتی ہے اور عاجز بھی رہتی ہے، وہ صحیح بھی ہو سکتی ہے اور غلطی بھی کر سکتی ہے۔ ابن القیم نے یہ نقطہ بیان کیا، انہوں نے ’’مفتاح دار السعادۃ‘‘ (۲/۱۱۷) میں فرمایا: ’’… بلکہ عقل کی غایت و انتہا یہ ہے کہ وہ حسن کا اجمالی طور پر ادراک کرے جس کی شرع نے تفصیل بیان کی یا اسے قبیح قرار دیا، عقل اسے اجمالی طور پر پاتی ہے، شرع اس کی تفصیل بیان کرتی ہے، اور یہ جیسا کہ عقل عدل کے حسن کا ادراک کرتی ہے، اور اس فعل معین کے عدل یا ظلم ہونے کے حوالے سے، پس یہ اس میں ہے کہ ہر فعل و عقد میں اس کے ادراک سے عقل عاجز رہتی ہے، اور اسی طرح وہ ہر فعل کے حسن اور اس کے قبح کے ادراک سے عاجز رہتی ہے۔ شرائع اس کی تفصیل اور وضاحت بیان کرتی ہیں، اس سے عقل صریح جس کا ادراک کر لیتی ہے شرائع اس کا اثبات کر دیتی ہیں، اور جو ایک وقت میں حسن ہو اور ایک وقت میں قبیح ہو، عقل نے اس کے حسن کے وقت سے اس کے قبح کے وقت سے راہنمائی نہیں کی، پس شرائع اس امر کے ساتھ آئیں جس کے ساتھ ایک وقت میں اسے حسن قرار دیا، اور اس سے نہی لے کر آئیں جس وقت میں اسے قبیح قرار دیا، اس طرح فعل مصلحت اور مفسدہ کو مشتمل ہو سکتا ہے، عقل نہیں جانتی کہ اس کا مفسدہ راجح ہے یا اس کی مصلحت؟ پس عقل اس بارے میں توقف کرتی ہے، تو شرائع اس کے بیان کو بتاتی ہیں، وہ راجح مصلحت کا حکم دیتی ہیں اور راجح مفسدہ سے روکتی ہیں۔ اسی طرح فعل ہے وہ کسی شخص کے لیے مصلحت ہو سکتا ہے اور اس کے علاوہ کسی دوسرے کے لیے مفسدہ اور عقل اس کا ادراک نہیں کرتی، تو پھر اسلامی قوانین اس کی وضاحت کرتے ہیں، وہ اس چیز کا اسے حکم کرتے ہیں جو اس کے لیے مصلحت ہوتے ہیں، اور اس سے اسے روکتے ہیں جو اس کے حق میں مفسدہ ہوتے ہیں، اس طرح فعل ظاہر میں مفسدہ ہو سکتا ہے، جبکہ اس کے ضمن میں عظیم مصلحت ہو سکتی ہے، جس کی طرف عقل راہنمائی نہیں کرتی، وہ صرف شرع کے ذریعے ہی معلوم ہوتی ہے، جیسے جہاد اور اللہ کی راہ میں قتل، اور ظاہر میں مصلحت ہو سکتی ہے، جبکہ اس کے ضمن میں عظیم مفسدہ ہو سکتی ہے جس کی طرف عقل راہنمائی نہیں کرتی، پس اسلامی قوانین اس کے ضمن میں جو مصلحت ہے اور جو مفسدہ راجح ہے اسے بیان کرتے ہیں، اس کے باوجود یہ کہ افعال کے حسن و قبح کے ادراک سے جو عقل عاجز آجاتی ہے توپھر اس کے علاوہ کوئی چیز نہیں جو اس کا ادراک کر سکے، تو پھر رسولوں کی حاجت ضروری ہے، بلکہ وہ ہر حاجت سے اوپر ہے، پس دنیا وجہاں کو سب سے زیادہ رسولوں صلوات اللہ علیہم اجمعین کی ضرورت ہے۔ اس مسئلہ کی تفصیل ان کتب میں دیکھیں: ’’مفتاح دارالسعادۃ‘‘ (۲/۲۔ ۱۱۸) ’’مدارج السالکین‘‘ (۱/۹۱، ۲۳۰۔ ۲۵۷، ۳/۴۰۷، ۴۸۸، ۴۹۲) ’’شفاء العلیل‘‘ (۴۳۵)، ’’مجموع فتاوی ابن تیمیۃ‘‘ (۸/۹۰، ۹۱، ۴۲۸۔ ۴۳۲، ۳/۱۱۴۔ ۱۱۵، ۱۱/۶۷۵۔ ۶۸۷، ۱۵/۸، ۱۶/ ۲۳۵۔۳۶۳)، ’’درء تعارض العقل و النقل، ‘‘(۸/۴۹۲۔۴۹۳)، ’’الارشاد‘‘ للجوینی (۲۲۸، ۲۵۹)، ’’شرح الکوکب المنیر‘‘ (۱/۳۰۰، ۳۲۲) ’’الموافقات‘‘ (۲/۵۳۴۔۵۳۵) ’’لوامع الانوار‘‘ (۱/۲۸۴۔۲۹۱) ’’روح المعانی‘‘ (۱۴/ ۹۴، ۱۵/۳۷۔۴۲)’’تیسیر التحریر‘‘ (۱/۲۸۳۔ ۳۸۷)، ’’ایقاذ الفکرۃ لمراجعۃ الفطرۃ‘‘ للصنعانی (ص۲۰۳۔ ۲۴۸)، ’’حقیقۃ البدعۃ واحکامھا‘‘ (۲/۱۲۷۔ ۱۳۳) ’’نظریۃ المقاصد عند الامام الشاطبی‘‘ (ص۲۱۶۔۲۲۹)، اور ’’الاعلام بمخالفات الموافقات و الاعتصام‘‘ (ص۱۰۱۔ ۱۱۱)۔