کتاب: بدعت کا انسائکلوپیڈیا(قاموس البدع) - صفحہ 337
ہمارے شیخ نے ’’الصحیحۃ‘‘ (۷/۳۹۸) میں فرمایا:
…اس بارے میں ان کی مثال [1] معتزلہ اور معطلہ کے مثل ہے جو آیات صفات اور احادیث صفات کی اپنے زعم کے مطابق تاویل کرتے ہیں کہ ان کے ظواہر سے تجسیم و تشبیہ معلوم ہوتی ہے، اور یہ اللہ تعالیٰ کی شان کے لائق نہیں ہیں اس لیے تاویل واجب ہے! اہل السنہ کا ان پر رد معروف ہے اور وہ یہ کہ ان نصوص سے تشبیہ سمجھنا غلطی ہے، اس لیے وہ تاویل کے ذریعے اس کا رد کرنے پر مجبور ہوئے اور اس پر ہم انہیں اور تاویل کرنے والے ان جیسے افراد سے کہتے ہیں: نص کے لیے فہم درست کر لو تم تاویل وتعطیل سے بچ جاؤ گے، اساسی مشکل و پیچیدگی سوء فہم ہے یا ضعف ایمان ہے، اور کبھی وہ دونوں اکھٹے ہو جاتے ہیں۔
ہمارے شیخ نے ’’الضعیفۃ‘‘ (۱۱/ ۵۰۴) میں فرمایا:
اس کے ذریعے اس [2] نے ان معتزلہ کو اسلحہ فراہم کیا جو اللہ تعالیٰ کی بہت سی صفات کا انکار کرتے ہیں جیسے سمع و بصر اور اللہ تعالیٰ کی رؤیت، وہ ان صفات کا تاویل کے ذریعے انکار کرتے ہیں جو تعطیل (صفات کی معطل ماننے) تک پہنچا دیتا ہے۔
[1] کتاب ’’تحریر المرأۃ فی عصر الرسالۃ‘‘ کے مؤلف۔ کتاب کو پیش کرنے والے شیخ قرضاوی ہیں.
[2] کتاب ہذہ عقیدۃ السلف والخلف فی ذات اللہ تعالٰی … کے مؤلف.