کتاب: بدعت کا انسائکلوپیڈیا(قاموس البدع) - صفحہ 336
ہمارے شیخ نے ’’الطحاویۃ‘‘ (ص۴۵) پر اپنی تعلیق میں فرمایا: یہ اس لیے کہ صفات اور رؤیت کا انکار معتزلہ وغیرہ کی طرف سے ہے، وہ ان کی نفی اپنے زعم کے مطابق تشبیہ سے بچنے کے لیے کرتے ہیں، اور یہ لغزش، کجی اور گمراہی ہے، یہ کس طرح تنزیہ ہو سکتی ہے، جبکہ وہ اللہ کی صفاتِ کمال کی نفی کرتے ہیں اور ان (صفات) میں سے رؤیت ہے، تب معدوم وہ چیز ہوتی ہے جو دیکھی نہ جائے، کتاب و سنت سے ثابت شدہ رؤیت کے اثبات میں کمال ہے، اور مشبہہ صفات کے اثبات اور خالق کو مخلوق کے ساتھ تشبیہ دینے میں غلو کرنے کی وجہ سے لغزش کا شکار ہوئے، جبکہ حق ان کے اور ان کے درمیان ہے، تشبیہ کے بغیر اثبات، تعطیل کے بغیر تنزیہ، کتنی خوبصورت بات کی گئی ہے: (صفات کو) معطل قرار دینے والا عدم کو پوجتاہے، جبکہ جسمیت کا قائل صنم کی پوجا کرتا ہے۔ ۳:… معتزلہ اور ’’استواء‘‘ کی ’’استیلاء‘‘ سے تفسیر[1]: ’’مختصر العلو‘‘ (۲۸۔۳۲)، ’’الصحیحۃ‘‘ (۱/۸،۷/۴۷۶۔۴۷۷)۔ ’’الضعیفۃ‘‘ (۱۱/۵۰۳۔۵۰۷) ۴:… معتزلہ اور خروج دجال نیز نزول مسیح عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے اس (دجال) کوقتل کرنے کا انکار اور صحیح احادیث کا رد اور ان کی تاویل: ’’قصۃ مسیح دجال‘‘ (ص۱۲) ۵:… معتزلہ اور صفات کی تاویل[2]:
[1] عقائد کی بدعات کے تذکرے میں ’استواء کی استیلاء کے ساتھ تفسیر کی بدعت‘ کے موضوع پر تفصیل سے دیکھیں. [2] (فائدہ ۱)…: ہمارے شیخ نے ’’الصحیحۃ‘‘ (۷/ ۱۶۳۷۔ ۱۶۳۸) میں حدیث رقم (۳۶۲۱) کے تحت بیان کیا: تنبیہ: ’’الاحسان‘‘ پر تبصرہ لکھنے والے نے … اقرار کرتے ہوئے … اللہ تعالیٰ کی ’’صفات کلام و نظر کی تاویل نقل کی کہ اس سے مراد رضا اور اعراض ہے۔ اور اسی طرح دیگر صفات کی تاویل۔ اور یہ تاویل مذموم ہے! جو کہ سلف صالح کے عقیدے کے مخالف ہے، حالانکہ اصل یہ ہے کہ انہیں ان کے ظاہر پر ویسے ہی رہنے دیا جائے جیسا کہ اللہ عز وجل کی عظمت و شان کے لائق ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے فرمان: ﴿لَیْسَ کَمِثْلِہٖ شَیْئٌ وَ ھُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ﴾ [الشورٰی: ۱۱] ’’اس جیسی کوئی چیز نہیں اور وہ خوب سننے والا خوب دیکھنے والا ہے۔‘‘ (فائدہ۲)…: ہمارے شیخ رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ’’مختصر العلو‘‘ (ص۳۲۔ ۳۳) میں بیان کیا: اما بعد! بے شک تاویل کا ضرر اس کے کرنے والوں پر ہے۔اور انہیں اس شرع سے انحراف کرنے پر آمادہ کرنا ہے جس کی میری نظر میں کوئی حدود نہیں ہیں، اگر یہ نہ ہو تو پھر آج وحدت الوجود کے قائلین کا کوئی وجود نہ ہو، اور نہ ہی ان سے پہلے ان کے بھائیوں قرامطہ باطنیہ کا، جنہوں نے شریعت کا اور اس کے تمام حقائق کا انکار کیا جیسے جنت و جہنم، نماز، زکوۃ، روزہ اورحج اور وہ اس کی معروف تاویل کرتے ہیں، علامہ المرتضی الیمانی نے ’’ایثار الحق علی الخلق‘‘ (ص۱۳۵) میں تاویل کی قباحت کے بیان کیسلسلے میں فرمایا: ’’بے شک معتزلہ اور اشعریہ نے جب اسمائے حسنی اور جنت وجہنم کے انکار سے باطنی کفر کیا، باطنی انہیں کہتا ہے: میں نے ان کا انکار نہیں کیا، میں نے تواتنا کہا ہے کہ وہ مجاز ہے! جس طرح کہ تم نے الرحمن الرحیم الحکیم کا انکار نہیں کیا، تم نے تو یہ کہا کہ وہ مجاز ہے! تم کو الرحمن الرحیم پر ایمان کے بارے میں مجاز کس طرح کافی ہو گیا جبکہ وہ دونوں اسمائے حسنی میں سے سب سے زیادہ مشہور ہیں یا زیادہ مشہور ہیں، اس نے اس کے باقی میں مجھے کفایت نہ کیا، اور جنت اور جہنم میں حالانکہ وہ دونوں اللہ کے زیادہ تر ناموں کے علاوہ ہیں؟ اللہ پر اور اس کے اسماء پر ایمان اور اس کی مخلوقات پر ایمان کے درمیان کتنا فاصلہ ہے؟! جب تمہیں (اللہ کے) سب سے زیادہ مشہور اسمائے حسنی پر مجازی ایمان لاناکافی ہے تو پھر جنت جہنم اور دوبارہ اٹھائے جانے پر اسی طرح کے (مجازی) ایمان نے مجھے کس طرح کفایت نہ کیا؟!‘‘ میں نے کہا: انہی کی طرح آج قادیانی ٹولہ ہے (دیکھئے، فرقوں اور گروہوں کی بدعات میں قادیانیت کی بحث) جنہوں نے تاویل کے طریق سے بہت سے ایسے حقائق شرعیہ کا انکار کیا جن کے متعلق امت کے درمیان کوئی اختلاف نہیں، جیسا کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کے باقی رہنے کے بارے میں کہا، اس بارے میں انہوں نے اپنے نبی مرزا غلام احمد کی، اور اس سے پہلے ’’الفتوحات المکیۃ‘‘ میں ابن عربی، اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کے فرمان: ﴿وَ لٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ ﴾ [الاحزاب: ۴۰] کی تاویل کی کہ اس کا معنی ہے انبیاء کی زینت اور اس کا معنی یہ نہیں کہ وہ ان کے آخری ہیں! اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان ’’لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ‘‘ کی اس طرح تاویل کی: میرے ساتھ! اور انہوں نے جنوں کے وجود کا انکار کیا حالانکہ اس کے علاوہ قرآن کریم میں ان کا ذکر کئی بار آیا ہے، اور ان دونوں میں ان کی مختلف صفات کا ذکر ہے، اور انہوں نے کہا: کہ وہ انسانوں کا ایک گروہ ہے! اس کے علاوہ ان کی اور گمراہیاں بھی ہیں، اور یہ سب تاویل کی ’برکات‘ ہیں جسے خلف نے آیت استواء اور اس کے علاوہ صفات کی آیات میں اخذ کیا۔ تاویل کا ضرر اس کے کرنے والوں پرگراں نہیں جو اس میں جکڑے ہوئے ہیں اور ان کا یہ قول جو کہ ان کے درمیان عام ہے اور جب کبھی صفات و ایمان کی ان کے حقائق یا ان کی تاویل پر بحث ہوتی ہے تو وہ قول ان کی زبانوں پر عام ہوتا ہے، سن لو اور وہ ان کاقول ہے، ’’مذہب سلف زیادہ سلامتی والا ہے، جبکہ مذہب خلف اعلم اور احکم ہے۔‘‘ (اس عبارت کے قلع قمع کے لیے بدع العقائد میں دیکھیں).