کتاب: بدعت کا انسائکلوپیڈیا(قاموس البدع) - صفحہ 334
’’…رہی شہادت پس ظاہر ہے کہ وہ مرجۂ کی بدعات میں سے ہے جو ہر مومن کے لیے جنت کی گواہی دیتے ہیں، جو کہتے ہیں: جس طرح شرک کی موجودگی میں کوئی عمل فائدہ نہیں دیتا، اسی طرح ایمان کے ہوتے ہوئے کوئی عمل نقصان نہیں دیتا،یا پھر یہ معتزلہ کی بدعات میں سے ہے، انہوں نے شہادت کے مسئلے میں چار اقوال پر اختلاف کیا ہے، ان میں سے بعض کا قول ہے: شہداء وہ قابل اعتماد ہیں، وہ شہید ہوئے یا شہید نہیں ہوئے، ان کے باقی اقوال ’’مقالات الاسلامیین‘‘ (۱/۲۹۶۔ ۲۹۷) میں دیکھیں۔
۲:… ایمان کے بارے میں مرجۂ کی بدعات:
ہمارے شیخ رحمہ اللہ نے ’’الضعیفۃ‘‘ (۶/۱۰۱) میں حدیث رقم (۲۵۹۰)[1] کے تحت بیان کیا اور ہمارے شیخ نے اس پر منکر کا حکم لگایا ہے۔
پھر یہ کہ وہ حدیث میرے نزدیک ’’منکر ہے‘‘ اس کا کچھ حصہ دوسرے حصے کی مخالفت کرتا ہے! کیونکہ اس کا لاالہ الا اللّٰہ کہنا تب تک اس کے لیے نافع نہیں جب تک اس کے دل میں ایمان کی کوئی چیز نہ پائی جائے، مگر حد سے بڑھے ہوئے بعض مرجۂ کے مذہب پر، جوکہ قول کے ساتھ ایمان قلبی کو مشروط نہیں ٹھہراتے، غور کریں۔[2]
۳:… مرجۂ اور ان کا یہ کہنا، ایمان کے ہوتے ہوئے گناہ گار کے لیے گناہ مضر نہیں:
طحاوی نے ’’عقیدۃ الطحاویۃ‘‘ فقرہ (۵۸) میں بیان کیا:
’’ہم نہیں کہتے کہ ایمان کے ہوتے ہوئے گناہ گار کے لیے گناہ مضر نہیں۔‘‘
ہمارے شیخ رحمہ اللہ نے ’’الطحاویۃ‘‘ پر اپنی تعلیق (ص۶۱) پر فرمایا:
[1] وہ حدیث یہ ہے: ’’ملک الموت علیہ السلام ایک قریب المرگ شخص کے پاس آیا: تو اس نے اس میں کوئی خیر نہ پائی ، اس نے اس کا دل چیر کر دیکھا تو وہاں بھی کچھ نہ تھا، پھر اس نے اس کے جبڑے کھولے تو دیکھا کہ اس کی زبان کا سرا تالو کے ساتھ لگا ہوا ہے اور وہ کہہ رہا ہے: لا الہ الا اللّٰہ، اللہ نے اس کے کلمہ اخلاص کی وجہ سے اسے بخش دیا۔‘‘.
[2] ہم نے جو آپ رحمہ اللہ کا کلام بیان کیا ہے اسے دیکھیں۔ اس میں الارجاء سے لاتعلقی ہے، اور جس نے ان پر اس کا الزام لگایا ہے اس پر رد ہے۔ دیکھئے ان کا تبصرہ بعنوان ’’ما تریدیہ اور ان کا ایمان کے بارے میں عقیدہ۔‘‘.