کتاب: بدعت کا انسائکلوپیڈیا(قاموس البدع) - صفحہ 332
الاسلامی) میں بیان کیا: مرجۂ اسلام کے فرقوں میں سے ایک فرقہ ہے، وہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ ایمان کے ساتھ معصیت مضر نہیں، جس طرح کفر کی موجودگی میں اطاعت مفید نہیں، ان کے اعتقاد کہ اللہ نے ان کو معاصی پر عذاب دینے کو مؤخر کیا، کی وجہ سے ان کا نام مرجۂ رکھا گیا؟ ’’أرجاء‘‘ یعنی: اس (عذاب) کو ان سے مؤخر کیا۔ ’’النھایۃ‘‘ میں اس طرح ہے۔ امام ابو عبید نے اپنے رسالے ’’الایمان‘‘ (رقم:۲۲) میں سلمہ بن کہیل تک اپنی سند سے بیان کیا، انہوں نے کہا: ’’ضحاک، میسرہ اور ابو البختری جمع ہوئے، توانہوں نے اس پر اتفاق کیا کہ شہادت (گواہی، تصدیق، اقرار) بدعت ہے، ارجاء بدعت ہے اور برائت بدعت ہے۔‘‘[1]
[1] ہمارے شیخ رحمہ اللہ نے مصدرمذکور میں اس کی اسناد کو صحیح قرار دیا ہے۔ اور انہوں نے ’’الصحیحۃ‘‘ (۷/۱۳۷) میں فرمایا: ’’ارجاء بدعت ہے۔‘‘ ابو عبیدہ نے بیان کیا: اس میں اور اس کے سابقے اور لاحقے میں ہمارے شیخ الالبانی رحمہ اللہ کی ارجاء سے لاتعلق ہونے پر واضح دلیل ہے، اور ان پر اس کا الزام لگانا بلاشک ایک بہتان ہے، ہاں، اس شخص کے ، جو کسی مسئلے کی تخریج میں غلطی کرتا ہے اور اس کے متعلق کوئی –– اجتہادی طور پر–– کوئی چیز نوٹ کرتا ہے جبکہ ایمان کے مسائل کے بارے میں اس کے اصول صحیح ہیں، اور اس شخص کے درمیان بڑا فرق ہے جس کے اصول ٹیڑھے ہوں، وہ سلف صالح کے موقف کی مخالفت کرتے ہوں، اہل السنۃ والجماعۃ کے محققین کے نزدیک مذہب کے ساتھ چمٹے رہنا کوئی مذہب نہیں! اور کچھ امور پر فوری تنبیہ ضروری ہے: ۱:… ہمارے شیخ رحمہ اللہ اپنی کئی مجالس میں اسحاق بن راھویہ کی‘ ان کی مسند‘‘ (۳/۶۷۰۔۶۷۱) میں مروی یہ روایت ذکر کیا کرتے تھے: شیبان نے ابن المبارک سے کہا: ابو عبدالرحمن! تم زانی، شرابی اور اس طرح کے شخص کے بارے میں کیا کہتے ہو، کیا وہ مومن ہے؟ ابن المبارک نے فرمایا: میں اسے ایمان سے خارج نہیں کرتا۔ انہوں نے کہا: بڑھاپے میں مرجئی ہو گئے ہو؟ ابن المبارک نے فرمایا: ابو عبداللہ! مرجۂ مجھے قبول نہیں کرتے، میں کہتا ہوں: ایمان بڑھتا ہے، جبکہ مرجۂ یہ نہیں کہتے، مرجۂ کہتے ہیں: ہماری نیکیاں قبول ہیں، جبکہ میں نہیں جانتا کہ میری کوئی نیکی قبول ہوتی ہے۔ ۲:… کبار علماء جن کی بات ان مسائل میں معتبر ہے ان سے ارجاء اور البانی کے بارے میں پوچھا گیا، انہوں نے اپنی رائے دی، اور معاملہ ختم ہوا، وللہ الحمد والمنۃ۔ ان (کبار علماء) کے سرخیل علامہ شیخ عبدالعزیز بن باز ہیں، ان سے شوال ۱۴۱۹ھ میں ایک سوال پوچھا گیا یہ اس کی عبارت ہے: ’’ان میں سے بعض علامہ شیخ محمد ناصر الدین الالبانی۔n۔ کے عقیدے کے متعلق شبہات پھیلاتے ہیں اور وہ انہیں بعض گمراہ فرقوں، جیسے مرجۂ ہیں، کی طر ف منسوب کرتے ہیں، آپ کی ان لوگوں کے لیے کیا نصیحت ہے؟‘‘ پس آپ … رحمہ اللّٰہ تعالیٰ وغفرلہ … نے یہ جواب دیا: ’’شیخ ناصر الدین الالبانی اہل السنہ و الجماعہ کے ہمارے معروف محدثین برادران میں سے ہیں، ہم اپنے لیے اور ان کے لیے ہر خبر پر توفیق و اعانت کے لیے اللہ سے درخواست کرتے ہیں، ہر مسلمان پر واجب ہے کہ وہ علماء کے بارے میں اللہ سے ڈرے اور اللہ کا خوف دل میں رکھے، اور صرف بصیرت سے بات کرے۔‘‘ شیخ کا کلام ختم ہوا۔ یہ ’’لقاء البصائر‘‘ کے عنوان پر ایک کیسٹ سے لکھا گیا ہے۔ اور شیخ علامہ محمد صالح عثیمین رحمہ اللہ نے الدعوۃ السلفیۃ کے مشائخ کے ساتھ ٹیلیفونک گفتگو‘‘ رقم (۴) میں ایک کیسٹ میں فرمایا: ’’جس نے شیخ البانی پر ارجاء (مرجئی ہونے) کا الزام لگایا ہے اس نے غلطی کی ہے، وہ (الزام لگانے والا) یا تو البانی کو نہیں جانتا، یا پھر وہ ارجاء سے واقف نہیں، الالبانی تو اہل السنہ کے آدمی ہیں … رحمہ اللہ … اور وہ سنت کا دفاع کرنے والے ہیں، وہ حدیث کے امام ہیں، ہم اپنے دور میں کسی کو نہیں جانتے جو ان کے پائے کا ہو، لیکن کوئی !! … ہم اللہ سے عافیت طلب کرتے ہیں … جس کے دل میں کینہ ہو، جب وہ کسی شخص کی مقبولیت دیکھتا ہے تو وہ منافقوں کی طرح اس پر الزام لگانے لگتا ہے!! وہ صدقات کے بارے میں اطاعت گزار مومنوں پر الزام لگاتے ہیں، جو اپنے پاس محنت کی کمائی سے تھوڑا سا پاتے ہیں (اور وہ اس میں سے بھی صدقہ کرتے ہیں)، وہ (منافق) زیادہ صدقہ کرنے والے پر (ریاکاری کا) الزام لگاتے ہیں اور محتاج شخص پر بھی جو صدقہ کرتا ہے الزام لگاتے ہیں۔ وہ آدمی … رحمہ اللہ … ہم اسے اس کی کتب کے حوالے سے جانتے ہیں، اور میں بسا اوقات ان کے ساتھ مجلس نشینی کے حوالے سے بھی جانتا ہوں، وہ سلفی العقیدۃ اور سلیم المنہج ہیں، لیکن بعض لوگ!! یہ چاہتے ہیں کہ وہ اللہ کے بندوں کو کسی ایسی چیز کی وجہ سے کافر قرار دیا جائے جس کی وجہ سے اللہ نے انہیں کافر قرار نہیں دیا، پھر وہ دعویٰ کرتا ہے کہ جو اس تکفیر میں اس کی مخالفت کرے گا وہ مرجئی ہے!! یہ کذب اور بہتان ہے!!! اس لیے آپ اس بات کو نہ سنیں خواہ اسے کرنے والا کوئی بھی ہو۔‘‘ ہمارے دینی بھائی شیخ ابو الحسن مصطفی بن اسماعیل الماربی … حفظہ اللہ … نے اس فتوی کو فضیلۃ شیخ ابن عثیمین … رحمہ اللہ … کے ساتھ ایک ٹیلیفونک مکالمے میں مزید مضبوط اور مؤید بنایا، شیخ نے فرمایا: ’’صحیح ہے، صحیح ہے، صحیح ہے، یہ تو وہ ہیں جن کی رہنمائی سے ہم اللہ کے دین پر عمل کرتے ہیں، ہم ان کی محبت پر اللہ کو گواہ بناتے ہیں، میں آپ سے امید کرتا ہوں کہ آپ اس فتوی کو نشر کریں گے۔‘‘ اور ابو الحسن نے بتاریخ ۲۸/۶/۱۴۲۱ھ اس کو نشر کیا اس پر ان کا نام اور مہر ہے۔ ۳:… وہاں کچھ عبارتیں مجمل ہیں جن پر متعدد معانی کا احتمال ہے، مثلاً: (کیا عمل شرط صحت ہے یا شرط کمال؟) اور عصر حاضر کے جدید مسائل مسائل میں فتاوی کا مدار اس کے اہل کے مرتبے کی تحقیق پر ہے، مثلاً ’اللہ کی نازل کردہ شریعت کے بغیر فیصلہ کرنا‘ اور اس کی صورتیں مثلاً: حلال قرار دینے کی بعض صورتیں، کیا بعض اقوال و افعال میں تحقیق کی ضرورت ہے؟ مثلاً: ترک صلاۃ کی بعض صورتیں، یہ سب اسلام سے ناواقفیت کے سبب پیدا ہوئیں، اور ان پر علماء کی نقولات اس پر منطبق کرنا جس میں اجتہاد ہے، اس میں کہا جاتا ہے، درست ہے اور حسن ہے،یہ نہیں کہا جاتا: کفر اور ایمان ہے، تمام ماخذ جن کی اس باب میں ہمارے شیخ پرتنقید کی گئی ، انہیں فقہ الایمان کے تحت درج کرنا صحیح ہے! اسلاف کے واضح اصول جو ہمارے شیخ کی نفع مند کتب میں ثابت ہیں، ان میں کوئی چیز بھی قابل تنقید نہیں۔ ۴:… شیخ رحمہ اللہ کو سلفی عقیدہ نشر کرنے میں جتنی تکالیف اور آزمائشیں آئیں انہیں صرف اللہ تعالیٰ عزوجل ہی جانتا ہے، اس وجہ سے انہیں کئی ملکوں میں، کئی سرکاری اہل کا روں کی طرف سے دھمکیاں دی گئیں، بلکہ وہ انہیں وہابی کا لقب دیتے تھے، جیسا کہ ہم انہیں اپنی قوم کے لوگوں کے لیے اپنی مجالس و مجالس میں جانتے ہیں، پس جو شخص شیخ الالبانی رحمہ اللہ کو عقیدہ سلفیہ اور دعوت سلفیہ کی نشر واشاعت میں پہنچنے والی تکالیف اور مشقتوں کے متعلق جاننا چاہے اس پر لازم ہے کہ وہ ان ایام میں شام کی مساجد کی زیارت کرے! پس اس کے اندازے کے بغیر اور ابھی ابھی مذکورہ سبب کی وجہ سے شیخ پر ارجاء کی تہمت لگانا شیخ رحمہ اللہ تعالیٰ پر بہت بڑا ظلم ہے۔ ۵:… حق و عدل کے ساتھ رد اور ہر قول کو اس کے مقام و مرتبے پر رکھنا، بہت اہم واجبات میں سے ہے، رہا الزام وطعن اور اندازے سے تہمت لگانا، تو یہ محقق منصف اہل علم کے منہج میں سے نہیں، داعیان اور علماء کے درمیان یکجہتی واجب ہے، نہ کہ ان کے درمیان لگائی بجھائی (لڑائی)۔ آخری بات یہ ہے… ہمارے طالب علم بھائیوں کی ایک جماعت ہمارے شیخ الالبانی سے اس تہمت کو دور کرنے کے لیے اٹھ کھڑی ہوئی، اللہ ان کی کوششوں پر انہیں جزائے خیر عطا فرمائے، ان میں سے ہمارے بھائی شیخ علی بن حسن حلبی نے اپنی کتاب: ’’التعریف و التنبئۃ بتأصیلات العلامۃ الشیخ الامام اسد السنہ الہمام محمد ناصرالدین الالبانی فی مسائل الایمان والرد علی المرجۂ‘‘ میں، اور ہمارے بھائی شیخ عبدالعزیز بن ریس الریس نے اپنے رسالے ’’الامام الالبانی و موقفہ من الارجاء۔‘‘ میں، اور ہمارے بھائی شیخ وضاح الشعبی نے ’’ھذا ھو ارجاء الفقہاء، فأین الالبانی من ھذا الارجاء‘‘ میں، اور ہمارے بھائی شیخ حسین عوایشۃ کا اس کے بارے میں ایک رسالہ ہے۔