کتاب: بدعت کا انسائکلوپیڈیا(قاموس البدع) - صفحہ 329
وہ مخلوق ہے، تو اس بارے میں ان کا معاملہ واضح طور پر برا ہے، لیکن یہاں ایک ایسا گروہ ہے جو اہل سنت کی طرف منسوب ہے اور معتزلہ کے قول کو رد کرتا ہے جس وجہ سے وہ اسلام سے منحرف ہوگئے، آگاہ ہوجائیں! وہ اشاعرہ اور ماتریدیہ ہیں، وہ حقیقت میں خلق قرآن کہنے میں معتزلہ کے قول سے موافقت کرتے ہیں کہ وہ رب العالمین کا قول (کلام) نہیں ہے، مگر یہ کہ وہ اس کا برملا اعلان نہیں کرتے، وہ کلام الٰہی کے لیے اپنی تفسیر کے پس پردہ رہے ہیں کہ وہ قدیم نفسیانی روحانی کلام ہے جو کسی فرشتے سے سنا گیا ہے نہ کسی رسول سے، اور یہ کہ اللہ جب چاہتا ہے کلام نہیں کرتا، وہ تو ازل سے متکلم ہے۔‘‘[1] ۲:… ماتریدیہ اور ایمان کے بارے میں ان کا مذہب: اقرار باللسان، و التصدیق بالجنان! (زبان سے اقرار اور دل سے تصدیق): امام طحاوی نے ’’اپنے عقیدے‘‘ فقرے (۶۲) میں بیان کیا: ’’ایمان: زبان سے اقرار اور دل سے تصدیق ہے۔‘‘ یہ حنفیہ اور ماتریدیہ کا مذہب ہے، جو کہ سلف اور جمہور ائمہ کے مذہب کے خلاف ہے، جیسے مالک، شافعی، احمد اور اوزاعی وغیرہم، کیونکہ ان حضرات نے اقرار و تصدیق پر عمل بالارکان[2] (اعضاء کے ساتھ عمل) کا اضافہ
[1] پھر انہوں اس مسئلے پر کلام کے متعلق شیخ الاسلام رحمہ اللہ سے ایک اہم بحث نقل کی، اسے ’’التعلیق علی الطحاویۃ‘‘ (ص۵۸۔۵۹) میں دیکھیں، اور مزید فائدہ کے لیے (ص۴۱۔۴۳) دیکھیں جو کہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ سے منقول ہے. [2] ہمارے شیخ نے ’’الذب لاحمد‘‘ (ص۳۳) عن ’’الماتریدیۃ میں بیان کیا: ’’یہ معلوم ہے کہ وہ کتاب و سنت اور آثار صحابہ میں واضح طور پر بیان کردہ موقف کہ ’’ایمان میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے‘‘ کے متعلق نہیں کہتے، کہ اعمال ایمان کا حصہ ہیں، حنفیہ کے علاوہ سلف و خلف کے جمہور علماء کا یہی موقف ہے … کیونکہ وہ مخالفت پرمصر رہتے ہیں، بلکہ وہ ان کے خلاف صراحت سے اس موقف کا انکار کرتے ہیں، حتی کہ ان میں سے کسی نے صراحت کی کہ یہ (سلف کا موقف) ارتداد و کفر ہے۔ العیاذ باللہ۔ ’’البحرالرائق‘‘ (لابن نجیم حنفی) (۸/۲۰۵) میں ’’باب الکراھیۃ‘‘ میں یہ ذکر کیا ہے: ’’ایمان بڑھتا ہے نہ کم ہوتا ہے: کیونکہ ہمارے نزدیک ایمان اعمال میں سے نہیں۔‘‘ اور اس نے ’’باب احکام المرتدین‘‘ (۵/۱۲۹۔۱۳۱) میں یہ بیان کیا: ’’جب اللہ کسی ایسی چیز سے موصوف کیا جائے گا جو اس کی شان کے لائق نہیں یا اس کے اسماء میں سے کسی نام کا مذاق اڑایا جائے گا توایسے شخص کو کافر قرار دیا جائے گا … پھر اس نے بہت سے مکفرات (کافر بنانے والے امور) بیان کیے، پھر کہا… ایمان بڑھتا اور کم ہوتا ہے!‘‘ انہوں نے اس پر حاشیے میں اس طرح تبصرہ کیا ہے: ’’شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے ایمان کے اعمال میں سے ہونے کی وجہ سے بیان کیا ہے، کہ وہ بڑھتا اور کم ہوتا ہے۔ یہ تفصیل ان کی کتاب ’’الایمان‘‘ میں ہے، جو تفصیل چاہتا ہے وہ اس کی طرف رجوع کرے۔ میں کہتا ہوں: میں نے ایمان کے مسائل میں مذہب سلف اور اہل السنہ کا عقیدہ ثابت کرتے ہوئے بیس سال سے لکھا ہوا تھا، وللّٰہ الحمد، پھر آج پر جوش جاہل اور نئی نسل آئی وہ ہمیں ارجاء کا الزام دیتے ہیں!! ان کی جہالت و گمراہی اور رذالت کی، جس پر وہ ہیں، اللہ سے شکوہ کیا جاتا ہے!!.