کتاب: بدعت کا انسائکلوپیڈیا(قاموس البدع) - صفحہ 300
پس جو شخص حسن نیت سے اس کو غور سے سنتا ہے تو وہ مباح ہے، اس نے مجھے ایک قصہ یاد دلا دیا جو میرے اور ایک طالب علم کے درمیان اس وقت ہوا جب وہ میری دکان پر مجھ سے اپنی گھڑی درست کرانے آیا، میں نے اسے دیکھا کہ اس نے گول سی تختیاں چھپا رکھی ہیں، جو پہلے دور میں گرامو فون نامی آلے کے ذریعے گانے سننے میں استعمال ہوتی تھیں، میں نے قصداً اس سے کہا: تم گانا گاتے ہو؟ اس نے کہا: نہیں، میں گانا نہیں گاتا، میں سنتا ہوں، میں نے کہا: تم کیا سنتے ہو؟ اس نے کہا: میں ام کلثوم کو سنتا ہوں، میں اس آلے/ مشین کے پاس بیٹھ جاتا ہوں اور میرے ہاتھ میں تسبیح ہوتی ہے، اور میں سنتا ہوں، تو میں جنت میں خوبصورت آنکھوں والی حور کے گانے کو یاد کرتا ہوں۔ ہم نے اسے کہا: تم کتنے بدنصیب ہو یا اس معنی کی کوئی بات۔ مجھے یہ اندیشہ ہے کہ تم میں سے کسی پر وہ دن بھی آئے گا کہ وہ اس دعوی کے پیش نظر کہ وہ جنت کی شراب کو یاد کر رہا ہے وہ شراب نوشی کو حلال قرار دے دے گا۔[1] شیخ عبدالغنی النابلسی کی مسلمانوں کے درمیان گمراہی کی اشاعت کی وجہ سے صوفیاء یہاں تک پہنچ گئے ہیں، کیا کوئی نصیحت قبول کرنے والا ہے! ۷:… صوفیاء اور سحر: ہمارے شیخ رحمہ اللہ نے ’’الضعیفۃ‘‘ (۳/۶۴۲) میں حدیث رقم (۱۴۴۶) کے تحت بیان کیا: اور اس مقتول جادوگر کے مثل[2] ، طرقیہ وہ لوگ ہیں جو یہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ اولیاء اللہ ہیں، پس وہ اپنے
[1] اس قصے کو مکمل طور پر کتاب ’’تحریم آلات الطرب‘‘ (ص۱۷۶۔ ۱۷۷) میں دیکھیں، اور وہ اس کتاب میں ایک فصل: ’’الغناء الصوفی و الاناشید الاسلامیۃ‘‘ (ص۷۸۸) ہے۔ اور غناء صوفی اور اسلامی اشعار کے متعلق تفصیل کے ساتھ (ص۷۷۳) میں دیکھیں. [2] اس کا قصہ۔ جیسا کہ پچھلے مذکورہ مصدر میں ہے۔ ابن وہب کے حوالے سے بیہقی میں ہے: ابن لہیعہ نے ابو الاسود کے حوالے سے مجھے خبر دی: ’’کہ ولید بن عقبہ عراق میں تھے ان کے سامنے ایک جادوگر کرتب دکھاتا تھا، وہ آدمی کے سر کو مارتا، پھر اسے آواز دیتا، وہ باہر کھڑا ہوتا، تو اس کا سر اس کی طرف لوٹ آتا، لوگوں نے کہا: سبحان اللہ! وہ زندہ کرتا اور مارتا ہے! مہاجرین میں سے ایک صالح شخص نے اسے دیکھا، اس نے اس کی طرف نظر کی، جب اگلا روز ہوا، وہ آدمی (جادوگر) اپنی تلوار پر لیٹ کر اپنا وہ کرتب دکھانے لگا، تو اس آدمی نے اپنی تلوار سونتی اور اس کی گردن اڑا کر کہا: اگر وہ سچا ہے تو اپنے آپ کو زندہ کرتا! ولید نے اس کے متعلق ایک دینار کا حکم دیا۔ وہ نیک آدمی تھا۔ پس اس نے اسے قید کر دیا، اس نے کہا: وہ آدمی اسے اچھا لگا، تو اس نے کہا: کیا تم بھاگ سکتے ہو؟ اس نے کہا: ہاں، اس نے کہا: پس نکل جا اللہ تمہارے متعلق مجھ سے کبھی نہیں پوچھے گا۔‘‘ میں نے کہا: یہ اسناد صحیح ہیں اگر ابو الاسود نے وہ قصہ دیکھا ہے کیونکہ وہ صغیر تابعی ہیں، ان کا نام محمد بن عبدالرحمن بن نوفل یتیم عروہ ہے.