کتاب: بدعت کا انسائکلوپیڈیا(قاموس البدع) - صفحہ 299
دور کے لوگوں کے سماع، ان کے اجتماع اور ان کی ہیئت سے مشابہت رکھتا ہو، سوائے اس کے۔ اگر یہ روایت صحیح ہوتی تو صوفیاء اور اہل زماں کے لیے ان کے سماع اور اور ان کی خرق کو پارہ پارہ کرنے کے لیے اس سے بہتر کوئی دلیل نہ ہوتی، جبکہ مشکل یہ ہے کہ وہ صحیح نہیں، میں نے اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے اصحاب کے ساتھ اجتماعِ ذوق نہیں پایا اور نہ ہی وہ اس کا سہارا لیتے تھے جو ہم نے اس حدیث میں پایا ہے، اور دل بھی اسے قبول کرنے سے انکار کرتے ہیں۔‘‘
میں نے کہا: یہ عمار بن اسحاق اس قصے کی وجہ سے متہم ہے، ذہبی نے اس کے سوانح حیات میں بیان کیا:
’’گویا کہ وہ اس بے سروپا قصے کو گھڑنے والا ہے جس میں ہے: ’’خواہش و گمراہی کے سانپ نے میرے جگر کو ڈس لیا ہے۔‘‘ باقی ثقہ ہیں۔‘‘
۶:… صوفیاء اور عبدالغنی النابلسی کی کتاب ’’ایضاح الدلالات فی سماع الآلات‘‘ پر اعتماد کرتے ہوئے گانے اور آلات موسیقی کی اباحت:
ہمارے شیخ رحمہ اللہ نے ’’صحیح الترغیب‘‘ (۲/۱۷۶) میں حدیث: (( زَیِّنُوْا الْقُرْاٰنَ بِأَصْوَاتِکُمْ)) قرآن کو اپنی آوازوں سے مزین کرو‘‘ کے تحت بیان کیا:
شیخ عبدالغنی النابلسی کے رسالے ’’إیضاح الدلالات فی سماع الآلات‘‘ کی تشریح کرنے والے نے بہت بڑی غلطی کی ہے، اس کا محقق احمد راتب حموش ہے، اس نے کہا: ’’اسے بخاری، دارمی، ابن حنبل، ابوداؤد، ترمذی اور نسائی نے روایت کیا ہے۔‘‘ یہ بڑا عجیب اختلاط ہے، دارمی کے علاوہ اس اضافے کے ساتھ ان میں سے کسی ایک نے بھی اسے روایت نہیں کیا، لیکن اس مذکورہ شخص نے اس چھوٹی سی کتاب پر اپنی تعلیقات میں بہت بڑی غلطیاں کی ہیں، ان میں سے سب سے اہم یہ کہ ان جیسوں کے لیے مناسب نہیں کہ وہ شیخ عبدالغنی صوفی [1] کی اس جیسی کتاب شائع کرنے پر معاونت کریں، جو اس میں ہر طرح کے آلات موسیقی کو مباح قرار دیتا ہے اور دعوی کرتا ہے کہ یہ اختلاف نیت کے ساتھ بدلتا رہتا ہے۔
[1] شیخ عبدالغنی النابلسی کا رسالہ، انہوں نے اسے آلات موسیقی کو ان کے اسماء و اشکال اور انواع کے اختلاف پر استعمال کرنے کی اباحت میں تصنیف کیا ہے، وہ دمشق میں دار القلم ادارے کی طرف سے مطبوع ہے، اور انہوں نے۔ عفا اللّٰہ عنہ۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان: ﴿قُلْ مَا عِنْدَ اللّٰہِ خَیْرٌ مِّنَ اللَّہْوِ وَمِنَ التِّجَارَۃِ﴾ [الجمعۃ:۱۱] ’’کہہ دیجیے جو اللہ کے پاس ہے وہ لہو و لعب (کھیل تماشے) اور تجارت سے بہتر ہے۔‘‘ سے افعل التفضیل کو لہو کے لیے تجارت کے مانند اصل خیر کے اثبات کے لیے استدلال کیا ہے، آپ جانتے ہیں کہ یہ محض دعوے اور توہم پر مبنی ہے، اور ان کی طرف سے مباح تجارت کے عطف کے ساتھ آیت کے شروع میں لہو پر استدلال کرنا بہت عجیب ہے، اور سب سے بڑی عجیب یہ بات ہے کہ انہوں نے اس کی اباحت کے متعلق رسالے تالیف کیے، جیسے ’’تحفۃ اولی الالباب فی العلوم المستفادۃ من الناس و الشباب‘‘ اسی سے صوفیاء کے بعض گروہ۔ یہ آلات استعمال کرنے لگے۔ العلامہ الآلوسی نے اپنی تفسیر ’’روح المعانی‘‘ (۲۸/۱۰۶) میں اس مذکورہ رسالے سے متنبہ کیا ہے، انہوں نے کہا: ’’…ان دلائل پر دائرہ ہے جو ہرن کے بچے کی کوکھ سے بھی زیادہ کمزور ہیں، وہ ان کے مقابلے میں بناوٹ کے محور پر گھومتی ہیں، ان میں سے اکاذیب ہیں جن کی کوئی اصل نہیں۔ کوئی عاقل شخص انہیں پسند کرتا ہے نہ انہیں قبول کرتا ہے، میں نہیں سمجھتا کہ وہ صوفیاء سماع و رقص کو رزق کے پرندے کو شکار کرنے والے جال کے علاوہ کسی اور کام کے لیے استعمال کرتے ہوں، جبکہ جاہل اسے غلامی کے پھندے سے آزاد ہونا گمان کرتے ہیں، پس ان کی طرف مائل ہونے سے بچو، اور اللہ المالک پرتوکل کرو۔‘‘ ہمارے شیخ الالبانی نے ’’سلسلۃ الضعیفۃ‘‘ (۱۴/۱۰۱۶۔۱۰۲۰) میں حدیث رقم (۶۹۳۶) کے تحت اس کتاب اور اس کے محقق کے برے کرتوت سے بچنے کے متعلق بڑی اہم بات نقل کی ہے۔
اس کے مذکورہ رسالے کے بارے میں کئی ایک علماء نے اس پر رد کیا ہے، اور علماء مصنّفین کی ایک جماعت نے موسیقی اور آلات موسیقی کی حرمت کے بارے میں کتابیں تصنیف کی ہیں، اور وہی قول حق ہے۔ اور کتاب و سنت کے موافق ہے۔ اور میری کتاب ’’کتب حذر منھا العلماء‘‘ (۱/۱۸۸۔۱۸۹) کا مطالعہ فرمائیں.