کتاب: بدعت کا انسائکلوپیڈیا(قاموس البدع) - صفحہ 275
اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ﴿وَاللّٰہُ یَعْصِمُکَ مِنَ النَّاسِ﴾ (المائدۃ: ۶۷) ’’ اللہ آپ کو لوگوں سے بچائے گا۔‘‘ وہ اس سے یہ مراد لیتا ہے کہ آپ کی طرف جو نازل کیا گیا ہے وہ آپ پہنچا دیں، کیونکہ دیگر احکام کے بارے میں خوفزدہ اور حفاظت کے بارے میں فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں۔ اور اس طرح … ان سب دلائل اور احادیث کے مجموعے سے … واضح ہوتا ہے کہ نبی( صلی اللہ علیہ وسلم ) امامت کی طرف دعوت دینے کے معاملے میں لوگوں سے خوف زدہ تھے، اور جو تواریخ واخبار کا مطالعہ کرتا ہے وہ جانتا ہے کہ نبی ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اپنے ڈرنے میں حق بجانب تھے، مگر یہ کہ اللہ نے انہیں حکم دیا کہ وہ پہنچائیں (تبلیغ کریں) اور ان سے اپنی حمایت کا وعدہ کیا، تو انہوں نے اس فریضے کو ادا کرنے میں اپنی آخری سانس تک کوشش کی، مگر یہ کہ مخالف جماعت نے معاملے کو پایہ تکمیل تک نہ پہنچنے دیا۔‘‘ ﴿ذٰلِکَ قَوْلُہُمْ بِاَفْوَاھِہِمْ﴾ (التوبۃ: ۳۰) ’’ یہ ان کے مونہوں کی بات ہے۔‘‘ ﴿قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَآئُ مِنْ اَفْوَاھِھِمْ وَ مَا تُخْفِیْ صُدُوْرُھُمْ اَکْبَرُ﴾ (آل عمران: ۱۱۸) ’’ان کے مونہوں سے بغض ظاہر ہو گیا، اور جو ان کے سینوں (دلوں) میں مخفی ہے وہ بہت بڑا (منصوبہ) ہے۔‘‘ ان کا اس دعوی میں جھوٹ کہ علی رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب لوگوں سے افضل ہیں: ہمارے شیخ نے مصدر سابق (۱۰/۶۴۴) میں حدیث رقم (۴۹۴۴)[1] کے تحت فرمایا: تنبیہ:… اس شیعی نے طبرانی کی اس حدیث کو نقل کیا، اور اس کے بعد (ص۲۲۵) یوں کہا: ’’یہ ان کے وصی ہونے کی دلیل ہے، اور اس بات میں صریح ہے کہ وہ نبی کے بعد سب لوگوں سے افضل ہیں، اور اس میں ان کی خلافت اور وجوبِ اطاعت کا پتہ چلتا ہے جو کہ عقل مندوں پر مخفی نہیں۔‘‘ میں کہتا ہوں: عقل مند کہتے ہیں: تخت قائم کرو پھر نقش نگاری کرو، وہ حدیث انتہائی ضعیف ہے، بلکہ موضوع ہے، علی رضی اللہ عنہ سے کئی طرق سے ثابت ہے: ’’ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے افضل ابوبکر و عمر ہیں، جیسا کہ بخاری اور دیگر کتب حدیث میں ہے، لیکن یہ شیعی اور اس کے ہمنوا اس کا انکار کرتے ہیں۔ ۱۱:… اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَ رَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا﴾ (المائدۃ: ۷۳) کے متعلق ان کی تحریف و تدلیس،اور ان
[1] روایت یہ ہے: … علی! کیا میں تمہیں راضی نہ کر دوں؟ ’’انہوں نے عرض کیا: کیوں نہیں اللہ کے رسول! فرمایا: ’’تم میرے بھائی اور میرے وزیر ہو۔۔۔۔‘‘ یہ روایت ضعیف ہے.