کتاب: برصغیر میں اہل حدیث کی اولیات - صفحہ 59
میں توحید وسنت کے بہت بڑے مبلغ تھے۔ بدعات اور شرکیہ رسوم وعادات کے شدید مخالف تھے۔ افغانستان کے علماے سوء نے اس بنیادی مسئلے پر ان کی شدید مخالفت کی اور حکومتِ وقت سے کہا کہ یہ شخص ملک میں فتنہ پھیلا رہا ہے، اسے اس کی سزا دی جائے۔ چنانچہ حکومت نے ان کو گرفتار کر کے سخت زدوکوب کیا اور ان کے تین بیٹوں مولانا سید محمد غزنوی، مولانا سید عبداللہ اور مولانا سید عبدالجبار غزنوی سمیت انھیں جیل میں ڈال دیا۔[1] بعد ازاں شدید ترین اذیتوں کے بعد حکومت افغانستان نے حضرت سید عبداللہ غزنوی اور ان کے خاندان کے تمام افراد کو اپنے ملک سے نکال دیا۔ جلاوطنی کے بعد یہ پاک باز لوگ مختلف مقامات کے چکر لگاتے ہوئے پنجاب کے شہر امرتسر پہنچے اور وہاں انھوں نے مدرسہ بھی جاری کیا جس نے مدرسہ غزنویہ کے نام سے شہرت پائی اور قرآن وحدیث کے موضوع پر خود بھی کتابیں لکھیں اور پرانی کتابیں شائع بھی کیں، جن میں امام ابن تیمیہ اور امام ابن قیم رحمہم اللہ کی تصانیف شامل ہیں۔ حدیث کے متعلق متعدد کتابیں ان حضرات کی کوشش سے پہلی مرتبہ معرضِ اشاعت میں آئیں۔ سید عبداللہ غزنوی نے 15۔ربیع الاول 1298ھ (15۔فروری 1881ء) کو امرتسر میں وفات پائی۔ ذیل میں اس خاندان کے اصحابِ علم کی تمام تصنیفی اور اشاعتی خدمات کا تذکرہ کیا جاتا ہے، جن میں قرآنی خدمات بھی شامل ہیں۔ ان کی سب خدمات کو یک جا کر دیا گیا ہے۔ حضرت سید عبداللہ غزنوی رحمہ اللہ جب افغانستان سے ہجرت کر کے وارد ہند ہوئے، ان کے بارہ بیٹے اور پندرہ بیٹیاں تھیں۔ ایک بیٹے کا نام عبداللہ تھا۔ ہجرت [1] حضرت سید عبداللہ غزنوی کے ایک بیٹے کا نام بھی عبداللہ تھا جنھیں حکومت نے باپ کے ساتھ قید کر دیا تھا۔