کتاب: برصغیر میں اہل حدیث کی اولیات - صفحہ 53
تھا۔ اس مقالے میں وہ تحریر فرماتے ہیں: ’’آخری زمانے میں حدیث کی تدریس واشاعت سے ہندوستان میں اہل حدیث کا ایک فرقہ پیدا ہوگیا تھا جو ائمہ کی تقلید کی مخالفت کرتا تھا۔ اس کی وجہ سے حنفی علما میں بھی کتب حدیث کے مطالعہ کا شوق پیدا ہوا اور وہ فقہی مسائل کو احادیث کی روشنی میں ثابت کرنے پر متوجہ ہوئے۔ اس طرح اس فرقے کا وجود علم حدیث کی ترقی کا باعث بنا۔‘‘[1] ان سطور میں مقالہ نگار نے اہل حدیث کے خلاف تعصب کا جو زہریلا انداز اختیار کیا ہے، وہ تو بالکل ظاہر ہے اور ہم اس وقت اس سے تعرض نہیں کرنا چاہتے، یہاں صرف یہ عرض کرنا مقصود ہے کہ اہل حدیث کے متعصب تریں مخالف بھی اس حقیقت کا اعتراف کرنے پر مجبور ہیں کہ برصغیر میں نبی اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث مبارکہ کے اصل مبلغ اہل حدیث ہیں۔ احناف نے اہل حدیث کو دیکھ کر اس موضوع کی طرف توجہ کی اور وہ بھی صرف اس لیے کہ کھینچ تان کر احادیث سے اپنے چند فقہی مسائل ثابت کر سکیں اور یہ کارِ خیر ماشاء اللہ وہ انجام دے رہے ہیں۔ اہل حدیث فرقہ نہیں واقعات کی روشنی میں دیکھا جائے تو اہل حدیث کوئی ایسا فرقہ نہیں جو ہندوستان میں پیدا ہوا، بلکہ اسلامی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ اس ملک کے لوگ پہلی صدی ہجری ہی میں اسلام سے آشنا ہوگئے تھے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین و ارشادات سے انھیں آگاہی حاصل ہونے لگی تھی، اس لیے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے عہد باسعادت (15ہجری) میں اس سرزمین میں صحابہ کرام کی آمد شروع ہوگئی تھی، پھر تابعین اورتبع تابعین کا ورودِ سعید بھی یہاں ہوا۔ اس پاک باز جماعت کے ذی شان ارکان [1] ماہنامہ ’’البلاغ‘‘ کراچی۔ ذو الحجہ 1387ھ۔