کتاب: برصغیر میں اہل حدیث کی اولیات - صفحہ 52
والعراق والحجاز منذ القرن العاشر للھجرۃ حتی بلغت منتھی الضعف في أوائل ھذا القرن الرابع عشر‘‘[1] یعنی ہندوستان کے علماے اہل حدیث نے علومِ حدیث کے تحفظ کی طرف خاص طور پر توجہ مبذول کی۔ اگر اس دور میں ہمارے یہ بھائی ایسا نہ کرتے تو مشرقی ممالک سے یہ علم ختم ہوجاتا۔ مصر، شام، عراق اور حجاز میں تو یہ علم دسویں صدی ہجری سے روبہ زوال ہوگیا تھا اور چودھویں صدی ہجری کے آغاز میں زوال کی انتہا تک پہنچ گیا تھا۔ اعترافِ حقیقت ہندوستان یعنی برصغیر کے اہل علم نے نشرواشاعتِ حدیث کے لیے جو بھرپور کوششیں کیں، ان کا ذکر علامہ رشید رضا کے علاوہ عرب ممالک کے بعض اور اصحابِ تحقیق نے بھی کیا ہے۔ خود ہندوستان کے معروف حنفی عالم مولانا مناظر احسن گیلانی نے صاف الفاظ میں لکھا ہے کہ اس سلسلے میں بنیادی کام اہل حدیث علماے کرام ہی کا ہے۔ مولانا فرماتے ہیں: ’’اس کو تسلیم کرنا چاہیے کہ اپنے دین کے اساسی سرچشموں (قرآن وحدیث) کی طرف توجہ ہندوستان کے حنفی مسلمانوں کی جوپلٹی، اس میں اہل حدیث اور غیر مقلدین کی اس تحریک کو بھی دخل ہے۔ عمومیت غیر مقلد تو نہ ہوئی، لیکن تقلید جامد اور کورانہ اعتماد کا طلسم ضرور ٹوٹا۔‘‘[2] جماعتِ احناف ہی کے ایک بزرگ مولانا سید رشید احمد ارشد کا ایک مقالہ ’’ہندو پاکستان میں علم حدیث‘‘ کے عنوان سے ماہنامہ ’’البلاغ‘‘ (کراچی) میں شائع ہوا [1] مقدمہ مفتاح کنوز السنہ، طبع دوم 1987ء (1408ھ)، سہیل اکیڈمی، لاہور۔ [2] ماہنامہ ’’برہان‘‘ دہلی۔ اگست 1985ء۔