کتاب: برصغیر میں اہل حدیث کی اولیات - صفحہ 32
بالموت وما بعد الموت اور ترتیب نزول وغیرہ اہم امور پر بحث کی گئی ہے۔ ’’الفوز الکبیر‘‘ کی تالیف کا سبب شاہ صاحب ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں: ’’جب اس فقیر (ولی اللہ) پر اللہ نے قرآن مجید کے فہم کے دروازے کھول دیے تو دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ چند ایسے مفید نکات بیان کردیے جائیں جو قرآن سے متعلق تدبر و غور کے سلسلے میں لوگوں کے لیے افادے کا باعث ہو سکیں، چنانچہ اس مختصر رسالے میں وہ نکات ضبطِ تحریر میں لائے گئے ہیں۔‘‘ شاہ صاحب کے ایک رسالے کا نام ’’فتح الخبیر‘‘ ہے۔ یہ رسالہ عربی زبان میں ہے اور قرآن مجید کے مشکل الفاظ کی تشریح اور غرائب کی شرح پر محیط ہے۔ اس میں جامعیت کے ساتھ تقریباً وہ سارا مواد سمیٹ لیا گیا ہے جو تفسیر کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے بہ طریق صحیح منقول ہے۔ یہ بھی برصغیر کے اس عظیم مصنف کی اس موضوع پر اولیں تصنیف ہے۔ شاہ ولی اللہ صاحب 4۔ شوال 1114ھ (21 ۔فروری 1703ء) کو دہلی میں پیدا ہوئے اور 29۔محرم 1172ھ (20۔اگست 1762ء) کو وفات پائی۔ حضرت شاہ ولی اللہ کے صاحب زادۂ گرامی شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی نے فارسی میں ’’تفسیر فتح العزیز‘‘ کے نام سے قرآن مجید کی تفسیر لکھی جو ’’تفسیر عزیزی‘‘ کے نام سے مشہور ہوئی۔ یہ تفسیر کئی جلدوں میں تھی، (وھو في مجلدات کبار) لیکن 1857ء کے ہنگامے میں ضائع ہوگئی۔ پہلی اور آخری صرف دو جلدیں باقی رہ گئیں۔[1] پہلی جلد سورت فاتحہ سے سورت بقرہ کے آخر تک سوا دوپاروں پر مشتمل ہے اور دوسری جلد دو آخری پاروں (انتیسویں اور تیسویں) کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ برصغیر میں فارسی [1] نزہۃ الخواطر (273/7)