کتاب: برصغیر میں اہل حدیث کی اولیات - صفحہ 171
حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کی ’’إتحاف النبیہ‘‘ مولانا شمس الحق ڈیانوی کی ’’ہدایۃ النجدین‘‘ (مصافحہ ومعانقہ بعد العیدین کے موضوع پر) علامہ عبدالعزیز میمن کے بعض مقالات۔ حضرت میاں سید نذیر حسین دہلوی کی معیار الحق۔ شاہ اسماعیل شہید دہلوی کی ’’إیضاح الحق الصریح‘‘۔ عزیر شمس صاحب کو عربی مخطوطات سے خاص طور پر دلچسپی ہے اور وہ متعدد عربی مخطوطات ایڈٹ کرکے شائع کر چکے ہیں۔ سعودی عرب کے یہ جن اداروں سے وابستہ ہیں ان میں جامعہ ام القریٰ (مکہ مکرمہ) مجمع الملک فہد(مدینہ منورہ) اور اسلامی فقہ اکیڈمی (جدّہ) شامل ہیں۔[1] اردو سے عربی میں تراجم کا تذکرہ انتہائی اختصار کے ساتھ کیا گیا ہے۔ برصغیر کے بہت سے حضرات نے یہ خدمت سرانجام دی ہے، مگر میں نے تفصیل میں جانا مناسب نہیں سمجھا، صرف چار اہل علم کا تذکرہ کیا ہے، ان چاروں کا تعلق ہندوستان سے ہے۔ پاکستان کے اہل حدیث علما کو بھی اس قسم کے کام کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ [1] جناب محمد عزیر شمس کے حالات کے لیے دیکھیے راقم کی کتاب قافلہ حدیث( 634تا 645)ان کے والد عالی قدر مولانا شمس الحق سلفی کے لیے ملاحظہ ہو قافلہ حدیث( ص 216تا 226)