کتاب: برصغیر میں اہل حدیث کی اولیات - صفحہ 168
ڈاکٹر عبدالعلیم بستوی ڈاکٹر صاحب ممدوح کا شمار ہندوستان کے نامور محققین میں ہوتا ہے۔ وہ یکم جنوری 1948ء کو ہندوستان کے صوبہ یو پی کے ضلع سدھارتھ نگر کے ایک گاؤں میں پیدا ہوئے اور کئی دینی اداروں میں اپنے دور کے مشہور اساتذہ سے تعلیم حاصل، پھر متعدد کتابیں تصنیف کیں اور اُردو کی دو نہایت اہم تاریخی کتابوں کا عربی زبان میں ترجمہ کیا۔ ان میں ایک کتاب ’’سیرۃ البخاري‘‘ہے جو حضرت مولانا عبدالسلام مبارک پوری کی مایہ ناز تصنیف ہے۔ یہ کتاب ہندوستان میں بھی چھپی اور پاکستان میں بھی۔ برصغیر کے اہل علم میں اسے بے حد مقبولیت حاصل ہوئی۔ ڈاکٹر عبدالعلیم بستوی نے اسے عربی کے قالب میں ڈھالا اور اس کے بہت سے مقامات پر حواشی لکھے، جن کی وجہ سے معلومات میں اتنا اضافہ ہوا کہ کتاب دو جلدوں میں پھیل گئی۔ یہ عربی کتاب 1423ھ میں مکہ مکرمہ میں طبع ہوئی۔[1] دوسری اردو کتاب مولانا مسعود عالم ندوی کی ہے جس میں شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب نجدی کے سوانح حیات تفصیل سے بیان کیے گئے ہیں۔ اس کتاب کا نام ہے ’’محمد بن عبدالوہاب۔۔۔ ایک مظلوم اور بدنام مصلح‘‘ ڈاکٹر صاحب موصوف نے اس کا عربی ترجمہ ’’محمد بن عبدالوہاب۔۔۔ مصلح مظلوم ومفتریً علیہ‘‘ کے نام سے کیا۔ اس میں بھی بہت سے اضافے کیے گئے ہیں۔ اضافوں کی وجہ سے کتاب نے بڑی اہمیت اختیار کی اور سعودی عرب میں متعدد مرتبہ چھپی۔ اہل علم بڑے شوق سے اس کا مطالعہ کرتے ہیں۔ [1] مولانا عبدالسلام مبارک پوری کے حالات کے لیے ملاحظہ ہو میری کتاب ’’گلستانِ حدیث‘‘ ص 145تا 149۔ اور ڈاکٹر عبدالعلیم بستوی کے لیے دیکھیے میری کتاب ’’دبستانِ حدیث‘‘ از ص 619تا 622 (شائع کردہ مکتبہ قدوسیہ اردو بازار، لاہور)