کتاب: برصغیر میں اہل حدیث کی اولیات - صفحہ 167
رحمۃ للعالمین (از قاضی محمد سلیمان سلمان منصورپوری) تین جلد۔ تحریک آزادیِ فکر اور شاہ ولی اللہ کی مساعیِ جمیلہ (از مولانا محمد اسماعیل سلفی) مسئلہ حیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم (مولانا محمد اسماعیل سلفی) زیارتِ قبور (مولانا محمداسماعیل سلفی) حجیتِ حدیث (مولانا محمد اسماعیل سلفی) جماعت مجاہدین (از مولانا غلام رسول مہر) ان کتابوں کے علاوہ انھوں نے ڈاکٹر یٰسین مظہر صدیقی، شیخ محمد تقی امینی، علامہ مصلح الدین اعظمی کی بعض کتابوں کے عربی ترجمے کیے۔ ڈاکٹر مقتدیٰ حسن ازہری کثیر الدرس، کثیر التصانیف اور وسیع المطالعہ عالم تھے۔ انھوں نے جہاں اردو اور فارسی کی متعدد کتابوں کو عربی میں منتقل کیا، وہاں عربی کی بعض اہم کتابوں کا بھی اردو میں ترجمہ کیا۔ انگریزی اور ہندی میں ان کے مضامین اور کتابوں پر مقدموں کے ترجمے ہوئے۔ اس طرح ان سے عربی، اردو، ہندی، انگریزی چار زبانوں میں لوگوں نے استفادہ کیا۔ اور یہ چاروں زبانیں ان کے ملک ہندوستان میں رواج پذیر ہیں۔ ہندی ان کی سرکاری زبان ہے ۔ اردو کو بھی کسی حد تک سرکاری حیثیت حاصل ہے اور یہ عام باہمی رابطے کی زبان بھی ہے۔ انگریزی کا بھی وہاں چلن ہے۔ عربی وہاں کے علما اور اہل مدارس کی بنیادی ضرورت ہے اور عربوں کو برصغیر کے اصحابِ علم کی علمی تگ وتاز سے متعارف کرانے کے لیے بھی اردو کی بہت سی کتابوں کا عربی میں منتقل کرنا ضروری ہے۔ ڈاکٹر مقتدیٰ حسن ازہری نے 30۔ اکتوبر 2009ء (10۔ذیقعدہ 1430ھ) کو وفات پائی۔[1] [1] ان کے حالات کے لیے ملاحظہ ہو راقم کی کتاب: گلستانِ حدیث (ص: 385 تا 395)