کتاب: برصغیر میں اہل حدیث کی اولیات - صفحہ 146
دہلی میں مولانا سورتی نے مختلف مدارس اور متعدد اساتذہ سے علومِ دینیہ کی تحصیل کی۔ مولانا عبدالسلام صاحب سے حافظ ابن حجر عسقلانی کی کتاب بلوغ المرام پڑھی اور صرف ونحو کی بعض کتابیں مولانا محمد صاحب جونا گڑھی سے پڑھیں۔ مولانا ابوسعید شرف الدین دہلوی سے نحو کے کچھ اسباق پڑھے۔ اسی طرح مولانا عبدالوہاب دہلوی سے حدیثِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعض کتابوں کا درس لیا۔ شیخ ابو اسماعیل یوسف حسین خان پوری سے الفیہ، سبعہ معلقات، عروض وقوافی کی تحصیل کی۔ بعد ازاں 1327ھ (1910ء) میں حیدرآباد (دکن) کے لیے رختِ سفر باندھا۔ وہاں شیخ علامہ ابوجلیل مکّی کے سامنے زانوے تلمذ تہ کیے۔ ایک سال وہاں قیام رہا تھا کہ اس کے بعد ان کے استاذ شیخ طیب مکی رام پور کے لیے چلنے لگے تو مولانا سورتی بھی ان کے ساتھ وہاں جانے کے لیے تیار ہوگئے۔ 1330ھ (1912ء) میں شیخ طیب ندوۃ العلماء لکھنؤ میں ادیب اول کے عہدے پر فائز ہوئے تو علم کے متلاشی مولانا محمد سورتی بھی وہاں چلے گئے۔ مولانا سورتی پانچ برس شیخ طیب مکّی کے ساتھ رہے۔ جب شیخ مکی واپس رام پور آگئے تو مولانا محمد سورتی بھی ان کے ہمراہ تھے۔ مولانا سورتی نے ان سے رام پور میں منطق، فلسفہ، ادب ، اصول فقہ، علم کلام، تفسیر، صحیح بخاری وغیرہ بڑی کتابیں نہایت محنت سے پڑھیں۔ شیخ طیب مکّی سے تکمیل علم کے بعد مولانا سورتی نے مختلف جیّد علما سے ملاقاتیں کیں۔ پھر درس وتدریس میں مشغول ہوگئے۔ اس عرصے میں انھوں نے شیخ حسین بن محسن انصاری سے ملاقات کی۔ اس کے بعد علامہ شمس الحق ڈیانوی سے خط کتابت کی۔ پھر دو فاضل شخصیتوں محمد شکرانی اور عبداللہ سیلانی سے ان کی ملاقات ہوئی۔ اس کے بعد ٹونک پہنچے۔ ان کا یہ سفر چند قلمی کتب کے مطالعے اور کتاب ’’المستدرک‘‘ وغیرہ نقل کرنے کے لیے تھا۔ وہاں یہ سعید عرفان کے ہاں مقیم رہے۔ 1332ھ سے 1335ھ (1914 سے 1917ء) تک کا عرصہ وہیں گزرا۔