کتاب: برصغیر میں اہل حدیث کی اولیات - صفحہ 126
جیسا کہ گزشتہ سطور میں بتایا گیا، شیخ محمد شفیع، مولانا یحییٰ علی اور مولانا محمد جعفر (تینوں ) کو پھانسی کی سزا سنائی گئی تھی۔ یہاں یہ واقعہ قابل ذکر ہے کہ سزا سن کر مولانا یحییٰ علی اور مولانا محمد جعفر تھانیسری انتہائی خوش تھے۔ انگریز پولیس کپتان نے مولانا محمد جعفر سے اس خوشی کی وجہ پوچھی تو انھوں نے بتایا کہ شہادت کی امید پرخوش ہیں، جو مسلمانوں کے لیے سب سے بڑی نعمت ہے، تم اس کو کیا جانو؟[1] اس کے بعد ان کی سزاے موت ختم کردی گئی کہ ملزم اس سے خوشی محسوس کرتے تھے اور انھیں خوش کرنا ہرگز مقصود نہ تھا۔اس کے بجاے حبسِ دوام بہ عبور دریاے شور کی سزا دی گئی کہ موت کے مقابلے میں یہ زیادہ تلخ اور تکلیف دہ سزا ہوگی۔ شیخ محمد شفیع کی سزا صرف جاداد کی ضبطی تک محدود رکھی گئی۔ جن لوگوں کو پھانسی کی سزا ختم کر کے حبسِ دوام بہ عبور دریاے شور کی سزا دی گئی، ان کے سر اور ڈاڑھی مونچھ مونڈ دیے گئے۔ مولانا یحییٰ علی ڈاڑھی کے کٹے ہوئے بال ہاتھ میں اٹھائے پھرتے اور کہتے: افسوس نہ کر تو خدا کی راہ میں پکڑی گئی اور اسی کی خاطر کاٹی گئی۔[2] کالاپانی کو روانگی: ان گیارہ ملزموں میں سے چار ملزموں ، مولانا یحییٰ علی، میاں عبدالغفار، مولانا محمد جعفر تھانیسری اور مولانا عبدالرحیم کو کالاپانی بھیجا گیا۔ پہلے تین بزرگوں کو ہتھکڑیاں اور بیڑیاں ڈال کر انبالہ سے پیدل لدھیانہ، پھلور ، جالندھر اور امرتسر کے راستے لاہور لایا گیا اور کچھ عرصہ لاہور سنٹرل جیل میں رکھا گیا۔ اس کے بعد ریل گاڑی کے ذریعے ملتان اور وہاں سے کشتی میں سوار کر کے کوٹری پہنچایا گیا۔ کوٹری سے کراچی اور کراچی سے بادبانی جہاز کے ذریعے بمبئی پہنچے۔ 8۔دسمبر 1864ء کو بمبئی سے جمنا جہاز میں [1] کالا پانی (ازمولانا محمد جعفر تھانیسری) (ص: 68) [2] کالا پانی (ازمولانا محمد جعفر تھانیسری) (ص: 68)