کتاب: برصغیر میں اہل حدیث کی اولیات - صفحہ 120
’’یہاں رؤساے نصاریٰ (عیسائی حکام) کا حکم بے جھجک جاری ہے اور ان کا حکم جاری اور نافذ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ملک داری، انتظاماتِ رعیت، خراج وباج، عشرومال گزاری، اموالِ تجارت، ڈاکوؤں اور چوروں کے سلسلے کے مقدمات کے فیصلوں اور جرائم کی سزاؤں میں یہ لوگ (نصاریٰ) خود ہی حاکم اور مختارِ مطلق ہیں۔بے شک نماز جمعہ، عیدین، اذان اور ذبیحہ گاؤ جیسے احکام میں وہ رکاوٹ نہیں ڈالتے، لیکن جو چیز ان سب کی جڑاور آزادی کی بنیاد ہے، وہ قطعاً بے حقیقت اور پامال ہے۔ چنانچہ یہ لوگ بے تکلف مسجدوں کو مسمار کر دیتے ہیں، عوام کی شہری آزادیاں ختم ہوچکی ہیں۔ یہاں تک کہ کوئی مسلمان یا غیر مسلم ان کی اجازت واطمینان کے بغیر اس شہر (دہلی) یا اس کے اطراف وجوانب میں نہیں آسکتا۔ عام مسافروں یا تاجروں کو شہر میں آنے جانے کی جو اجازت ہے، وہ بھی ملکی مفاد یا عوام کی شہری آزادی کی بنا پر نہیں بلکہ خود اپنے مفاد کی خاطر ہے۔ اس کے بالمقابل خاص خاص اور ممتاز ونمایاں حضرات ان کی اجازت کے بغیر اس ملک میں داخل نہیں ہوسکتے۔ دہلی سے کلکتے تک انہی کی عمل داری ہے۔ بے شک کچھ دائیں بائیں مثلاً حیدر آباد، لکھنؤ، رام پور میں چوں کہ وہاں کے فرماں رواؤں نے اطاعت قبول کر لی ہے، براہ راست نصاریٰ کے احکام جاری نہیں ہوتے۔‘‘[1] شاہ عبدالعزیز نے اس فتوے کے علاوہ ایک اور فتویٰ بھی جاری کیا تھا، جس میں دلائل سے ثابت فرمایا کہ ہندوستان اب دارالحرب ہوگیا ہے۔[2] [1] فتاویٰ عزیزیہ (17/1) [2] فتاویٰ عزیزیہ (105/1)