کتاب: برصغیر میں اہل حدیث کی اولیات - صفحہ 114
جدوجہد کے اصول پر منصہ شہود پرآئی ہے، اس لیے قانون مجبور ہے کہ انھیں شہریت کے تمام حقوق بخشے اور ان کی حفاظت کرے۔‘‘[1] ’’القادیانیہ‘‘ علامہ احسان الٰہی ظہیر کی عربی تصنیف علامہ احسان الٰہی ظہیر جماعت اہل حدیث کے نامور مقرر اور ممتازمصنف تھے۔ انھوں نے ’’القادیانیہ‘‘ کے نام سے عربی میں کتاب لکھی جو عرب ممالک میں بہت پھیلی اور بڑے بڑے عرب اہل علم کے مطالعہ میں آئی۔ اس کے فارسی، اردو اور انگلش ترجمے چھپ کر عام ہوئے۔ علامہ موصوف کی مرزائیت کی تردید میں یہ بہت بڑی خدمت ہے اورمرزائیت کے خلاف پاکستان کے ایک اہل حدیث عالم کی یہ اولیں عربی کتاب ہے۔ علامہ مرحوم لاہور میں اپنے نو ساتھیوں سمیت 23۔مارچ 1987ء (22۔ رجب 1407ھ) کو بم دھماکے میں شہید ہوئے۔ انھیں علاج کے لیے ریاض (سعودی عرب) لے جایا گیا تھا، لیکن جاں بر نہ ہو سکے۔ وہیں وفات پائی اورقبرستان جنت البقیع (مدینہ منورہ) میں دفن کیے گئے۔ ہمارے دوست ڈاکٹر بہاء الدین (محمد سلیمان اظہر) نے بارہ تیرہ ضخیم جلدوں میں ’’تحریک ختم نبوت‘‘ کے نام سے کتاب لکھی، جس میں مرزائیت کے سلسلے کا بہت سا ضروری مواد جمع کر دیا گیا ہے۔ اس اہم خدمت پر اﷲ انھیں جزاے خیر سے نوازے۔ مرزائیت کے بارے میں اہل حدیث کی ان تحریری وتصنیفی خدمات کا تذکرہ قلم روک روک کر نہایت اختصار کے ساتھ کیا گیا ہے اور بات اہل حدیث کی اولیات تک محدود رکھی گئی ہے۔ یعنی اس موضوع کی ان اولیں تحریروں کا ذکر کیا گیا ہے جو اردو یا عربی میں کتابی صورت میں چھپیں۔ [1] مرزائیت نئے زاویوں سے (ص: 127)