کتاب: برصغیر میں اہل حدیث کی اولیات - صفحہ 112
ضال و مضل و ملحد و دجال و کذاب و مفتری و محرفِ کتاب اللہ و احادیثِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہوں تو مجھ پر وہ لعنت کر جو کسی کافر پر آج تک تو نے نہ کی ہو۔ ’’بعدہ رو بقبلہ ہو کر دیر تک ابتہال اور عاجزی سے دعا کریں گے کہ یا اللہ جھوٹے کو شرمندہ اور رسوا کر اور سب حاضرینِ مجلس آمین کہیں گے۔‘‘[1] مذکورہ اشتہار کے مطابق 10۔ ذی قعدہ 1310ھ (25۔مئی 1893ء) کو عیدگاہ امرتسر میں مباہلہ ہوا اور فریقین امن وامان سے واپس چلے گئے۔ اس مباہلے کے نتیجے میں مرزا غلام احمد 26۔مئی 1908ء (25۔ ربیع الثانی 1326ھ) کو لاہور میں ہیضے کی بیماری سے مباہلہ کرنے والے مدمقابل (مولانا عبدالحق غزنوی رحمہ اللہ ) کی زندگی ہی میں بیت الخلا میں مرگیا اور پھر اس پر مستزادیہ کہ اس کے مرنے کے بعد لاہور کی احمدیہ بلڈنگس سے اس کی لاش کو قادیان لے جانے کے لیے جب لاہور ریلوے اسٹیشن کی طرف لے جایا جا رہا تھا تو اس پر اینٹ، پتھر، گندگی اور غلاظت کی ایسی بارش ہوئی کہ تاریخ میں کسی بدترین کافر کے لیے بھی ایسی ذلت ورسوائی کا سراغ نہیں ملتا۔ اس کے برعکس مولانا عبدالحق غزنوی رحمہ اللہ مرزا صاحب کی وفات کے بعد پورے نو برس زندہ رہے۔ ان کا انتقال 23۔ رجب 1335ھ (16۔ مئی1917ء) کو ہوا اور نہایت اعزاز واکرام کے ساتھ دفن کیے گئے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ مولانا عبدالحق غزنوی رحمہ اللہ پوری امت میں تنہا وہ شخص ہیں جن کے ساتھ مرزا صاحب کا مباہلہ ہوا۔ ان کے علاوہ متعدد علما کے ساتھ مباہلے کی بات چیت اور اشتہار بازی تو ہوئی مگر عملاً کسی کے ساتھ مباہلہ نہیں ہوا۔ گویا مرزا غلام احمد قادیانی کے ساتھ مباہلے اور پھر اس میں کامیابی کی سعادت پوری امت میں صرف ایک اہل حدیث عالم دین مولانا عبدالحق غزنوی کو حاصل ہوئی۔ [1] تاریخ مرزا (ص: 47، مطبوعہ المکتبۃ السلفیہ لاہور) بحوالہ اشتہار مولانا عبدالحق غزنوی، 8۔ذی قعدہ 1310ھ۔