کتاب: برصغیر میں اہل حدیث کی اولیات - صفحہ 102
بغیر تحقیق کے ایمان لے آئے۔‘‘[1] بانیِ تکفیر اس فتوے کے متعلق دوسری جگہ مرزا غلام احمد لکھتے ہیں: ’’مولوی محمد حسین نے یہ فتویٰ لکھا اور میاں نذیر حسین دہلوی سے کہا کہ سب سے پہلے اس پر مہر لگادے اور میرے کفر کی بابت فتویٰ دے دے اور تمام مسلمانوں میں میرا کافر ہونا شائع کر دے۔ سو اس فتوے اور میاں صاحب مذکور کی مہر سے بارہ برس پہلے یہ کتاب (براہین احمدیہ) تمام پنجاب اور ہندوستان میں شائع ہوچکی تھی اور مولوی محمد حسین جو بارہ برس بعد اول المکفرین بنے، بانی تکفیر کے وہی تھے اور اس آگ کو اپنی شہرت کی وجہ سے تمام ملک میں سلگانے والے میاں نذیر حسین دہلوی تھے۔‘‘[2] مرزاقادیانی کے ان الفاظ نے بات بالکل واضح کردی کہ ان کی ’’تکفیرکے بانی‘‘ مولانا محمد حسین بٹالوی تھے اور حضرت میاں صاحب ’’اس تکفیر کی آگ کو اپنی شہرت کی وجہ سے تمام ملک میں سلگانے والے‘‘ تھے۔یعنی حضرت میاں صاحب چوں کہ پورے ہندوستان کے علما و زعما میں اپنا ایک علمی مقام اور شہرت رکھتے تھے، اس علمی مقام اور شہرت کی وجہ سے تمام ملک میں یہ فتویٰ پھیلا اور لوگوں نے مرزا غلام احمد کو اس فتوے کی بنا پر کافر قرار دیا۔ یہ آج سے کم و بیش سوا سو سال پہلے کی بات ہے۔ اس وقت آمدورفت کے ان ذرائع کا کوئی تصور نہ تھا جو موجودہ دور میں ہم دیکھتے ہیں۔ نہ موٹریں تھیں، نہ کاریں تھیں، نہ سڑکیں تھیں، نہ ریل گاڑیوں کا یہ تسلسل تھا۔ لوگ کچے راستوں پر پیدل یا [1] انجام آتھم از مرزا غلام احمد قادیانی (ص: 45، طبع 1897ء) [2] تحفہ گولڑویہ، از مرزا غلام احمد قادیانی (ص:121، مطبوعہ قادیان 1914ء)