کتاب: بریلویت تاریخ و عقائد - صفحہ 93
لیکن جناب بریلوی کہتے ہیں : "جب تمہیں پریشانی کا سامنا ہو تو اہل قبور سے مدد مانگو! "[1] پھر ستم بالائے ستم یہ کہ جناب بریلوی نہ صرف یہ کہ خود قرآنی آیات کی مخالفت کرتے ہیں، بلکہ جو لوگ شرک و بدعت کے خلاف سچے اور مجاہدانہ جذبے کے ساتھ صف آراء ہیں اور ان صریح آیات پر عمل پیرا ہوتے ہوئے یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ صرف رب کائنات ہی مضطر اور مصیبت زدہ لوگوں کی التجا سنتا ہے اور اس کو شرف قبولیت بخشتا ہے اور صرف وہی مصائب و مشکلات کو دور کرنے والا ہے، بریلی کے یہ خاں صاحب ان کے خلاف طعن و تشنیع اور اظہار کدورت کرتے ہوئے لکھتے ہیں : "ہمارے زمانے میں معدودے چند ایسے پیدا ہوئے ہیں کہ حضرات اولیاء سے مدد کے منکر ہیں اور کہتے ہیں جو کچھ کہتے ہیں انہیں اس پر کچھ علم نہیں، یوں ہی اپنے سے اٹکلی لڑاتے ہیں۔ "[2] ان جیسے لوگوں کے متعلق ہی اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے : ﴿ وَ اِذَا قِیْلَ لَہُمُ اتَّبِعُوْا مَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ قَالُوْا بَلْ نَتَّبِعُ مَآ اَلْفَیْنَا عَلَیْہِٰابَآئَنَااَوَ لَوْ کَانَٰابَآؤُہُمْ لا یَعْقِلُوْنَ شَیْئًا وَّ لا یَہْتَدُوْنًَ﴾[3] "اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جو کچھ اللہ نے اتارا ہے اس کی پیروی کرو! تو کہتے ہیں کہ نہیں ہم تو اس کی پیروی کریں گے، جس پر ہم نے اپنے باپ دادوں کو پایا ہے۔۔۔۔ خواہ ان کے باپ دادا نہ ذرا عقل رکھتے ہوں اور نہ ہدایت رکھتے ہوں؟" اللہ رب العزت کا ارشاد ہے : ﴿ وَ اِذَا سَاَلَکَ عِبَادِیْ عَنِّیْ فَاِنِّیْ قَرِیْبٌ اُجِیْبُ دَعْوَۃَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لِیْ وَ لْیُؤْمِنُوْا بِیْ لَعَلَّہُمْ یَرْشُدُوْنَ ﴾[4] [1] الامن والعلی ص 46۔ [2] رسالہ حیات الموت درج در فتاویٰ رضویہ ج4 ص 301،302۔ [3] سورۃ البقرۃ آیت 170 [4] سورۃ البقرۃ آیت 186