کتاب: بریلویت تاریخ و عقائد - صفحہ 88
جناب موسیٰ کاظم کی قبر سے متعلق فرماتے ہیں "حضرت موسیٰ کاظم کی قبر تریاق اکبر ہے۔ "[1] خود جناب بریلوی محمد بن فرغل سے نقل کرتے ہیں کہ وہ کہا کرتے تھے : "میں ان میں سے ہوں جو اپنی قبور میں تصرف فرماتے ہیں۔ جسے کوئی حاجت ہو تو میرے پاس چہرے کے سامنے حاضر ہو کر مجھ سے اپنی حاجت کہے، میں روا فرما دوں گا۔ "[2] سید بدوی سے یہی مقولہ نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں : انہوں نے کہا"مجھ میں اور تم میں یہ ہاتھ بھر مٹی ہی تو حائل ہے۔ اور جس مرد کو اتنی مٹی اپنے اصحاب سے حجاب میں کر دے تو وہ مرد ہی کاہے کاہے۔"[3] ایک طرف تو بریلوی حضرات کے یہ عقائد ہیں اور دوسری طرف قرآنی تعلیمات و ارشادات ہیں۔ ذرا ان کا تقابل کیجئے، تاکہ حقیقت کھل کر سامنے آ سکے کہ قرآن کریم کے نزدیک توحید باری تعالیٰ کا تصور کیا ہے، اور ان کے عقائد کیا ہیں؟ چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ نیک بندے اپنے رب سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں : ﴿ اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِینُ[4] (تجھی کی ہم بندگی کریں اور تجھی سے ہم مدد چاہیں ) اور پھر اللہ مشرکین کے عقیدے کو ردّ کرتے ہوئے اور اس پر ان کو ڈانٹتے ہوئے فرماتے ہیں : ﴿ قُلِ ادْعُوا الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ لا یَمْلِکُوْنَ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لا فِی الْاَرْضِ وَ مَا لَہُمْ فِیْہِمَا مِنْ شِرْکٍ ﴾[5] "آپ کہیں، تم انہیں پکارو تو جنہیں تم اللہ کے سوا (شریک خدائی) سمجھ رہے ہو، وہ ذرہ برابر بھی اختیار نہیں رکھتے۔ نہ آسمانوں میں اور نہ زمین میں اور نہ ان کی ان دونوں میں کوئی شرکت ہے اور نہ ان میں سے کوئی بھی اللہ کا مددگار ہے۔ " [1] ایضاً ص5۔ [2] انوار الانتباہ ص 182۔ [3] ایضاً ص 181۔ [4] سورۃ فاتحہ آیت 4 [5] سورۃ السبا آیت 22