کتاب: بریلویت تاریخ و عقائد - صفحہ 83
ہو یا فوت شدہ، اسے مدد کے لیے پکارا جا سکتا ہے۔۔۔۔۔۔ کیونکہ وہی تمام اختیارات کے مالک، نظام کائنات کی تدبیر کرنے والے اور مشکلات و مصائب سے نجات دینے والے ہیں۔ چنانچہ جناب بریلوی کہتے ہیں : "انبیاء و مرسلین علیہم السلام، اولیاء،علماء،صالحین سے ان کے وصال کے بعد بھی استعانت و استمداد جائز ہے، اولیاء بعد انتقال بھی دنیا میں تصرف کرتے ہیں۔ "[1] دوسری جگہ لکھتے ہیں : "حضور ہی ہر مصیبت میں کام آتے ہیں، حضور علیہ السلام ہی بہتر عطا کرنے والے ہیں، عاجزی و تذلل کے ساتھ حضور کو ندا کرو، حضور ہی ہر بلا سے پناہ ہیں۔ "[2] مزید لکھتے ہیں : "جبریل علیہ السلام حاجت روا ہیں، پھر حضور اقدس صلی اللہ علیہ و سلم کو حاجت روا، مشکل کشا، دافع البلاء ماننے میں کس کو تامل ہو سکتا ہے؟ وہ تو جبریل علیہ السلام کے بھی حاجت روا ہیں۔ "[3] صرف حضور کریم صلی اللہ علیہ و سلم ہی نہیں، بلکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی ان خدائی صفات کے حامل ہیں۔۔۔۔۔۔ جناب بریلوی عربی اشعار سے استدلال کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔ ناد علیّا مظھر العجائب تجدہ عونا لّک فی النوائب کلّ ھمّ و غمّ سینجلی! بولایتک یا علی یا علی ترجمہ: "پکار علی مرتضی کو کہ مظہر عجائب ہیں تو انہیں مددگار پائے گا مصیبتوں میں، سب پریشانی و غم اب دور ہو جائیں گے، تیری ولایت سے یا علی یا علی! [4] شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ علیہ بھی انہی صفات کے ساتھ متصف ہیں۔ بریلوی حضرات کذب و افتراء سے کام لیتے ہوئے آپ کی روایت نقل کرتے ہیں کہ [1] ایضاً۔ [2] ’’الامن والعلی‘‘از بریلوی ص 10۔ [3] ملفوظات ص 99 ط لاہور۔ [4] الامن والعلی ص 13۔