کتاب: بریلویت تاریخ و عقائد - صفحہ 70
برس کی عمر میں ہوئی۔[1] معلوم ہوتا ہے کہ جناب بریلوی کا جنازہ قابل ذکر حاضری سے محروم تھا۔ بہرحال ہم اس سلسلے میں کوئی حتمی بات نہیں کہہ سکتے۔ کیونکہ بغیر دلیل کے کوئی حکم لگانا ہم اپنے اسلوب تحریر کے منافی تصور کرتے ہیں۔ تاہم قرائن و شواہد سے یہی اندازہ ہوتا ہے کہ عوام ان کی تلخ لسانی، بات بات پر تکفیر کے فتووں اورانگریز کی عدم مخالفت کی وجہ سے ان سے متنفر ہو گئے تھے۔ [2] اس بات کا اعتراف ایک بریلوی مصنف نے بھی کیا ہے کہ "مسلمان امام احمد رضا سے متنفر ہو گئے تھے "۔ نیز: "ان کے مرید ومعتقد بھی اختلاف خلافت کے سبب ان سے برگزشتہ ہو گئے تھے۔ [3] ویسے بھی بریلویت کے پیروکار چونکہ اپنے امام و مجدد کے بارے میں بہت زیادہ غلو و مبالغہ کے عادی ہیں، اگر جنازے کی حاضری کسی عام عالم دین کے جنازے کے برابر بھی ہوتی تو ان کی تصانیف اس سلسلے میں مبالغہ آمیز دعووں سے بھری ہوتیں۔۔۔۔۔ جب کہ انہوں نے اس طرف کوئی خاص توجہ نہیں دی۔ البتہ بریلوی قوم حاضری کے علاوہ ان کے جنازے کے بارے میں دوسرے چند ایک مبالغوں سے باز نہیں آئی ! مبالغہ آمیزی ایک صاحب لکھتے ہیں : "جب جناب احمد رضا صاحب کا جنازہ اٹھایا گیا تو کچھ لوگوں نے دیکھا کہ اسے [1] مقدمہ دوام العیش از مسعود احمد ص 18 [2] ایضاً۔ [3] بستوی ص 111