کتاب: بریلویت تاریخ و عقائد - صفحہ 66
نیز اس رسالے میں جہاد کی مخالفت کرتے ہوئے ارشاد کرتے ہیں : "ہم مسلمانان ہند پر جہاد فرض نہیں ہے۔ [1] اور جو اس کی فرضیت کا قائل ہے، وہ مسلمانوں کا مخالف ہے اور انہیں نقصان پہنچانا چاہتا ہے۔ [2] نیز لکھتے ہیں : حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے جہاد سے استدلال کرنا جائز نہیں، کیونکہ ان پر جنگ مسلط کی گئی تھی۔ اور حاکم وقت پر اس وقت تک جہاد فرض نہیں، جب تک اس میں کفار کے مقابلے کی طاقت نہ ہو۔ چنانچہ ہم پرجہاد کیسے فرض ہو سکتا ہے، کیونکہ ہم انگریز کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ "[3] مسلمانوں کو جہاد و قتال، نیز انگریز سے محاذ آرائی سے دور رہنے کی تلقین کرتے ہوئے لکھتے ہیں : اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ﴿ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ ﴾ یعنی"اے ایماندارو، تم اپنے آپ کے ذمہ دار ہو۔ کسی دوسرے شخص کا گمراہ ہونا تمہارے لیے نقصان دہ نہیں ہو سکتا، بشرطیکہ تم خود ہدایت پر گامزن ہو۔ [4] یعنی ہر مسلمان انفرادی طور پر اپنی اصلاح کرے، اجتماعی جدوجہد کی کوئی ضرورت نہیں ! اور اپنے رسالہ کے آخر میں ان تمام راہنماؤں پر کفر کا فتوی لگایا ہے، جو انگریزی استعمار کے مخالف اور تحریک ترک موالات کے حامی تھے۔ [5] جناب احمد رضا نے جہاد کے منہدم کرنے کا فتوی اپنے رسالے "دوام العیش" [1] مرزا غلام احمد قادیانی کا بھی یہی فتویٰ تھا۔ [2] المحبتہ الموتمنتہ ص 208 [3] المحبتہ الموتمنتہ ص 210 [4] المحبتہ الموتمنتہ ص 206 [5] ملاحظہ ہو خاتمۃ الکتاب ص 211۔