کتاب: بریلویت تاریخ و عقائد - صفحہ 58
"اعلیٰ حضرت کے مجدد ہونے کی شہادت آپ کا مجموعہ فتاوی ہے، جو بڑی تقطیع کی بارہ جلدوں میں ہے اور ہر جلد میں ایک ہزار صفحات سے زائد ہیں۔ [1] اس بات سے قطع نظر کہ ان فتاوی کی علمی وقعت کیا ہے، ہم ان کی کذب بیانی کی وضاحت ضروری سمجھتے ہیں۔ اولاً، یہ کہنا کہ اس کی بارہ جلدیں ہیں، سراسر غلط ہے۔ اس کی صرف آٹھ جلدیں ہیں۔ ثانیاً، بڑی تقطیع کی صرف ایک جلد ہے۔ تمام جلدوں کے متعلق کہنا کہ وہ بڑی تقطیع کی ہیں، یہ بھی واضح جھوٹ ہے۔ ثالثاً، ان میں سے کوئی بھی ایک ہزار صفحات پر مشتمل نہیں ہے۔ بڑی تقطیع والی جلد کے کل صفحات 264 ہیں، باقی جلدوں کے صفحات پانچ چھ سو صفحات سے زیادہ نہیں۔ بہرحال ایک ہزار صفحات کسی جلد کے بھی نہیں ہیں۔ ہم نے تصنیفات کے موضوع کو اس قدر تفصیل سے اس لیے ذکر کیا ہے، تاکہ معلوم ہو سکے کہ بریلوی حضرات جناب احمد رضا خاں صاحب بریلوی کی تعریف و توصیف میں کس قدر مبالغہ آمیزی سے کام لیتے ہیں۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ فتاویٰ نویسی میں جناب احمد رضا اکیلے نہ تھے، بلکہ ان کے متعدد معاونین بھی تھے۔ ان کے پاس استفتاء کی شکل میں سوال آتے تو وہ ان کا جواب اپنے معاونین کے ذمے لگا دیتے۔ جناب بریلوی اپنے معاونین کو دوسرے شہروں میں بھی بھیجتے۔ [2] ظفر الدین بہاری نے اپنے اعلیٰ حضرت کا ایک خط بھی اپنی کتاب میں نقل کیا ہے، جو اس موضوع کو سمجھنے میں کافی ممد ومعاون ثابت ہو سکتا ہے۔ جناب احمد رضا صاحب اپنے کسی ایک معاصر کو مخاطب کر کے لکھتے ہیں : [1] اعلیٰ حضرت بریلوی از بستوی ص 180 [2] ملاحظہ ہو حیات اعلیٰ حضرت ص 244