کتاب: بریلویت تاریخ و عقائد - صفحہ 47
7۔ احمد رضا صاحب پر رفض و تشیع کا الزام اس لیے بھی لگایا جاتا ہے کہ انہوں نے شیعہ کے اماموں کی شان میں شیعوں کے انداز میں مبالغہ آمیز قصائد بھی لکھے۔ [1] ذریعہ معاش جناب احمد رضا صاحب کے ذریعہ معاش کے متعلق مختلف روایات آئیں ہیں۔ بعض اوقات کہا جاتا ہے کہ وہ زمیندار خان سے تعلق رکھتے تھے اور گھر کے اخراجات کے لئے انہیں سالانہ رقم مل جاتی تھی جس سے وہ گزر بسر کرتے۔ [2] بعض اوقات سالانہ ملنے والی رقم کافی نہ ہوتی اور وہ دوسروں سے قرض لینے پر مجبور ہو جاتے، کیونکہ ان کے پاس ڈاک کے ٹکٹ خریدنے کے لیے بھی رقم موجود نہ ہوتی۔ [3] کبھی کہا جاتا کہ انہیں دست غیب سے بکثرت مال و دولت ملتا تھا۔ ظفرالدین بہاری راوی ہیں کہ جناب بریلوی کے پاس ایک مقفل کنجی صندوقچی تھی، جسے وہ بوقت ضرورت ہی کھولتے تھے۔ اور جب اسے کھولتے تو مکمل طور پر نہیں کھولتے تھے اس میں ہاتھ ڈالتے اور مال، زیور اور کپڑے جو چاہتے نکال لیتے تھے۔ [4] جناب بریلوی کے صاحبزادے بیان کرتے ہیں کہ اعلیٰ حضرت اپنے احباب اور دوسرے لوگوں میں بکثرت زیورات اور دوسری چیزیں تقسیم کرتے تھے اور یہ سارا کچھ وہ اس چھوٹی سی صندوقچی سے نکالتے۔ ہمیں حیرت ہوتی کہ نامعلوم اتنی اشیاء اس [1] ملاحظہ ہو حدائق بخشش از احمد رضا مختلف صفحات [2] انوار رضا ص 360 [3] حیات اعلیٰ حضرت ص 58 [4] اعلیٰ حضرت بستوی ص 75، انوار رضا ص 57