کتاب: بریلویت تاریخ و عقائد - صفحہ 44
اس طرح کی لاتعداد روایات اور مسائل کا ذکر ان کی کتب میں پایا جاتا ہے 5۔ جناب احمد رضا نے شیعہ کے اماموں پر مبنی سلسلہ بیعت کو بھی رواج دیا۔ انہوں نے اس سلسلے میں ایک عربی عبارت وضع کی ہے جس سے ان کی عربی زبان سے واقفیت کے تمام دعووں کی حقیقت بھی عیاں ہو جاتی ہے۔ وہ لکھتے ہیں : "اللّٰھم صلّ وسلّم علیٰ وبارک علیٰ سیّدنا مولانا محمّد المصطفیٰ رفیع المکان المرتضیٰ علی الشان الذی رجیل من امّتہ خیر من رّجال من السّالفین و حسین من زمرتہ احسن من کذا و کذا حسنا من السّابقین السّیّد السّجاد زین العابدین باقر علوم الانبیاء والمرسلین ساقی الکوثر و مالک تسنیم و جعفر الّذی یطلب موسی الکلیم رضا ربّہ بالصّلاۃ علیہ۔ " [1] عربی زبان کا ادنیٰ علم رکھنے والا بھی اس عبارت کی عجمیت، رکاکت اور بے مقصدیت کا اندازہ کر سکتے ہیں۔ ایسے شخص کے بارے میں یہ دعویٰ کرنا کہ وہ ساڑھے تین برس کی عمر میں فصیح عربی بولا کرتا تھا، کس قدر عجیب لگتا ہے؟ "حسین من زمرتہ احسن من وکذا وکذا حسنا من السّابقین" کیسی بے معنی ترکیب ہے۔ "یطلب موسی الکلیم رضا ربّہ بالصّلاۃ علیہ" میں موسیٰ الکلیم سے مراد کون ہیں؟ اگر مراد موسیٰ کاظم ہیں تو کلیم سے کیا معنی؟ اور اگر مراد نبی و رسول حضرت موسیٰ علیہ السلام ہیں تو کیا حضرت موسیٰ علیہ السلام (معاذ اللہ) امام جعفر صادق پر درود بھیج کر اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنا چاہتے ہیں؟ بہرحال یہ عبارت مجموعہ رکاکت بھی ہے اور مجموعہ خرافات بھی! حاصل کلام یہ ہے کہ رضا بریلوی صاحب نے اس نص میں شیعہ کے اماموں کو ایک خاص ترتیب سے ذکر کر کے مسلمانوں کو رفض و تشیع سے قریب لانے کی سعی کی ہے۔ [1] انوار رضا ص 27