کتاب: بریلویت تاریخ و عقائد - صفحہ 43
رونما ہونے والے تمام واقعات بھی درج ہیں۔ [1] ز۔ اسی طرح شیعہ اصطلاح الجامعۃ کا بھی ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں : "الجامعۃ ایک ایسا صحیفہ ہے، جس میں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے تمام واقعات عالم کو حروف کی ترتیب کے ساتھ لکھ دیا ہے۔ آپ کی اولاد میں سے تمام ائمہ امور و واقعات سے باخبر تھے۔ [2] ح۔ جناب بریلوی نے ایک اور شیعہ روایت کو اپنے رسائل میں ذکر کیا ہے کہ : "امام احمد رضا (شیعہ کے آٹھویں امام ) سے کہا گیا کہ کوئی دعا ایسی سکھلائیں جو ہم اہل بیت کی قبروں کی زیارت کے وقت پڑھا کریں، تو انہوں نے جواب دیا کہ قبر کے قریب جا کر چالیس مرتبہ اللہ اکبر کہہ کر کہو السلام علیکم یا اہل البیت، اے اہل بیت میں اپنے مسائل اور مشکلات کے حل کے لیے آپ کو خدا کے حضور سفارشی بنا کر پیش کرتا ہوں اور آل محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے دشمنوں سے برأت کرتا ہوں۔ " [3] یعنی شیعہ کے اماموں کو مسلمانوں کے نزدیک مقدس اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور ائمہ اہل سنت سے افضل قرار دینے کے لئے انہوں نے اس طرح کی روایات عام کیں۔ حالانکہ اہل تشیع کے اماموں کی ترتیب اور اس طرح کے عقائد کا عقیدہ اہل سنت سے کوئی ناطہ نہیں ہے۔ ط۔ جناب احمد رضا شیعہ تعزیہ کو اہل سنت میں مقبول بنانے کے لیے اپنی ایک کتاب میں رقمطراز ہیں : "تبرک کے لیے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے مقبرے کا نمونہ بنا کر گھر کے اندر رکھنے میں کوئی حرج نہیں۔ [4] [1] خالص الاعتقاد از احمد رضا ص 48 [2] ایضاً ص 48 [3] حیاۃ الموات درج شدہ فتاویٰ رضویہ از احمد رضا بریلوی جلد 4 ص 249 [4] رسالہ بدرالانوار ص 57