کتاب: بریلویت تاریخ و عقائد - صفحہ 31
بھی نہ لگایا۔ ان کی بیوی نے کہا کہ کیا بات ہے؟ انہوں نے جواب دیا مجھے نظر ہی نہیں آئیں۔ حالانکہ وہ سالن کے ساتھ ہی رکھی ہوئی تھیں۔ [1] جناب بریلوی نسیان میں مبتلا تھے۔ ان کی یادداشت کمزور تھی۔ ایک دفعہ عینک اونچی کر کے ماتھے پر رکھ لی، گفتگو کے بعد تلاش کرنے لگے، عینک نہ ملی اور بھول گئے کہ عینک ان کے ماتھے پر ہے۔ کافی دیر تک پریشان رہے، اچانک ان کا ہاتھ ماتھے پر لگا تو عینک ناک پر آ کر رک گئی۔ تب پتہ چلا کہ عینک تو ماتھے پر تھی۔ [2] ایک دفعہ وہ طاعون میں مبتلا ہوئے اور خون کی قے کی۔ [3] بہت تیز مزاج تھے۔ [4] بہت جلد غصے میں آ جاتے۔ زبان کے مسئلے میں بہت غیر محتاط [5] اور لعن طعن کرنے والے تھے۔ فحش کلمات کا کثرت سے استعمال کرتے۔ بعض اوقات اس مسئلے میں حد سے زیادہ تجاوز کر جاتے اور ایسے کلمات کہتے کہ ان کا صدور صاحب علم و فضل سے تو درکنار،کسی عام آدمی کے بھی لائق نہ ہوتا۔ ان کے ایک معتقد بھی یہ کہنے پر مجبور ہو گئے کہ : "آپ مخالفین کے حق میں سخت تند مزاج واقع ہوئے تھے اور اس سلسلے میں شرعی احتیاط کو ملحوظ نہیں رکھتے تھے۔ " [6] [1] غیر مقلدین و دیوبندیہ جہنم کے کتے ہیں۔ رافضیوں (شیعہ) کو ان سے بدتر کہنا رافضیوں پر ظلم اور ان کی شان خباثت میں تنقیص ہے۔ (فتاویٰ رضویہ جلد 2ص 90) سبحان السبوح میں ارشاد کرتے ہیں : "جو شاہ اسماعیل اور نذیر حسین وغیرہ کا معتقد ہوا، ابلیس کا بندہ جہنم کا کندہ ہے۔ غیر مقلدین سب بے دین، پکے شیاطین پورے ملاعین ہیں۔ (سبحان السبوح ص 134)  انوار رضا ص 360 [2] حیات اعلیٰ حضرت ص 64 [3] ایضاً ص22 [4] انوار رضاص 358 [5] الفاضل البریلوی مصنفہ مسعود احمدص 199 [6] مقدمہ مقالات رضا از کوکب ص 30 مطبوعہ لاہور