کتاب: بریلویت تاریخ و عقائد - صفحہ 250
عورت کے پاس نہیں گیا۔ " خادم حیران تھا کہ یہ کیا معمہ ہے؟ اس واسطے کہ حضرت صاحب اولاد تھے۔ بہرحال تعمیل حکم ضروری تھی۔ دریا پر گیا اور وہ پیغام جو ارشاد فرمایا تھا کہا۔ دریا نے فوراً راستہ دے دیا۔ اس نے پار پہنچ کر اس بزرگ کی خدمت میں کھیر پیش کی۔ انہوں نے نوش جان فرمائی اور فرمایا، ہمارا سلام اپنے آقا سے کہہ دینا۔ خادم نے عرض کی، سلام تو جبھی کہوں گا جب دریا سے پار جاؤں گا۔ فرمایا دریا پر جا کر کہئے "میں اس کے پاس سے آیا ہوں، جس نے تیس برس سے آج تک کچھ نہیں کھایا۔ خادم بڑا حیران ہوا کہ ابھی تو انہوں نے میرے سامنے کھیر کھائی ہے، مگر بلحاظ ادب خاموش رہا۔ دریا پر آ کر جیسا فرمایا تھا، کہہ دیا۔ دریا نے پھر راستہ دے دیا! "[1] اولیائے کرام کی قدرت پر ایک اور دلیل : "حضرت یحییٰ منیری کے ایک مرید ڈوب رہے تھے۔ حضرت خضر علیہ السلام ظاہر ہوئے اور فرمایا، اپنا ہاتھ مجھے دے کہ تجھے نکالوں۔ ان مرید نے عرض کی، یہ ہاتھ حضرت یحیی منیری کے ہاتھ میں دے چکا ہوں، اب دوسرے کو نہ دوں گا۔ حضرت خضر علیہ السلام غائب ہو گئے اور حضرت یحییٰ منیری ظاہر ہوئے اور ان کو نکال لیا۔ "[2] ایک اور دلچسپ حکایت سنئے : "حضرت بشر حافی قدس اللہ سرہ پاؤں میں جوتا نہیں پہنتے تھے۔ جب تک وہ زندہ رہے، تمام جانوروں نے ان کے راستے میں لید گوبر پیشاب کرنا چھوڑ دیا کہ بشر حافی کے پاؤں خراب نہ ہوں۔ ایک دن کسی نے بازار میں لید پڑی دیکھی، کہا: ﴿ انا للّٰه وانا الیہ راجعون﴾ پوچھا گیا، کیا ہے؟ [1] حکایات رضویہ ص 35۔ [2] ملفوطات جلد 2 ص 164۔