کتاب: بریلویت تاریخ و عقائد - صفحہ 243
ہے۔ اس سے انکار کو یہ لوگ وہابیت اور کفر و ارتداد سے تعبیر کرتے ہیں۔ ایک بدقماش انسان، جسے یہ لوگ شیخ اور پیر جیسے القاب سے نوازتے ہیں، مرید اور اس کی بیوی کے درمیان سوتا اور وقت مباشرت خاوند اور بیوی کی حرکات و سکنات دیکھ کر محفوظ ہوتا ہے۔ یہ فحاشی و عریانی ہے، یا دین و شریعت؟ اگر یہی دین و شریعت ہے تو آنکھ نیچی رکھنے اور فواحش سے اجتناب وغیرہ کے احکامات کا کیا معنی ہے؟ اور بریلوی قوم کے یہ بزرگان دین ہی اس قسم کی حرکات کا ارتکاب شروع کر دیں تو مریدوں کا کیا عالم ہو گا؟ اور پھر بڑی وضاحت اور ڈھٹائی کے ساتھ حکایت نقل کرنے کے بعد جناب خلیل برکاتی فرماتے ہیں: "اس سے ثابت ہوا، شیخ مرید سے کسی وقت جدا نہیں ہوتا۔ ہر آن ساتھ ہے۔ اس طرح بے شک اولیاء اور فقہاء اپنے پیروکاروں کی شفاعت کرتے ہیں اور وہ ان کی نگہبانی کرتے ہیں۔ جب اس کا حشر ہوتا ہے، جب اس کا نامہ اعمال کھلتا ہے، جب اس سے حساب لیا جاتا ہے، جب اس کے عمل تلتے ہیں اور جب وہ پل صراط پر چلتا ہے، ہر وقت ہر حال میں اس کی نگہبانی کرتے ہیں۔ کسی جگہ اس سے غافل نہیں ہوتے۔ "[1] جناب بریلوی اپنے "ملفوظات" میں ایک اور حکایت نقل کر کے قبروں پر عرس اور میلوں کے فوائد بتلانا چاہتے ہیں، تاکہ بدقماش افراد ان میلوں اور عرسوں میں زیادہ تعداد میں شرکت کر کے مزارات سے "فیض" حاصل کریں۔ ارشاد کرتے ہیں : "سیدی عبدالوہاب اکابر اولیائے کرام میں سے ہیں۔ حضرت سیدی احمد بدوی کبیر رحمہ اللہ کے مزار پر ایک تاجر کی کنیز پر نگاہ پڑی۔ وہ آپ کو پسند آئی۔ جب مزار شریف پر حاضر ہوئے تو صاحب مزار نے ارشاد فرمایا: عبدالوہاب۔ وہ کنیز تمہیں پسند ہے؟ عرض کیا، ہاں شیخ سے کوئی بات چھپانا نہیں چاہئے۔ ارشاد فرمایا: اچھا ہم نے وہ کنیز تم کو ہبہ کی۔ آپ سکوت میں ہیں کہ کنیز تو اس تاجر کی ہے اور [1] حکایات رضویہ تعلیق خلیل برکاتی ص 55،ایضا! حاشیہ الاستمداد علی اجیال الارتداد از مصطفی رضا ص 35۔