کتاب: بریلویت تاریخ و عقائد - صفحہ 231
انکار ہے، کہیں اپنی زندیقیت و بے دینی کا فخر و مباہات کے ساتھ کھلا ہوا اقرار ہے۔ "[1] نیز: مسلمانان اہل سنت خود ہی انصاف کر لیں کہ ڈاکٹر صاحب کے مذہب کو سچے دین اسلام کے ساتھ کیا تعلق ہے؟"[2] علامہ اقبال علیہ الرحمۃ کی تکفیر کرتے ہوئے دیدار علی صاحب نے فتویٰ دیا تھا کہ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ ڈاکٹر اقبال سے ملنا جلنا ترک کر دیں، ورنہ سخت گناہ گار ہوں گے۔ "[3] استعمار کے خلاف اپنی نظموں اور تقاریر کے ذریعے مسلمانوں میں جہاد کی روح پھونکنے والے عظیم شاعر مولانا ظفر علی خاں علیہ الرحمۃ کو کافر ثابت کرنے کے لیے ایک مستقل کتاب "القسورۃ علیٰ ادوارالحمرالکفرۃ الملقب علی ظفر رمتہ من کفر" تحریر کی۔ یہ کتاب احمد رضا خاں صاحب کے بیٹے کی تصنیف ہے اور اس پر بہت سے بریلوی زعماء کے دستخط ہیں۔ انگریز کے خلاف علم جہاد بلند کرنے والے مولانا ابوالکلام آزاد رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ کی تکفیر کرتے ہوئے بریلوی حضرات کہتے ہیں : "ابوالکلام آزاد مرتد ہے اور اس کی کتاب تفسیر ترجمان القرآن نجس کتاب ہے۔ [4]انا للّٰه وانا الیہ راجعون! ہندوستان میں تعلیم عام ہونے کی صورت میں بریلوی افکار و نظریات دم توڑنے لگے تھے، کیونکہ ان کی بنیاد جہالت پر تھی۔ اسی وجہ سے بریلویت زیادہ جاہل طبقے میں ہی مقبول ہے۔ تعلیم کا حصول بریلویت کے لیے بہت بڑا خطرہ تھا اور بریلوی حضرات کے [1] تجانب ص 335 [2] ایضاً ص 341 [3] ملاحظہ ہو ذکر اقبال از مولانا عبد المجید سالک 129 [4] تجانب اہل السنۃ ص 166